Nawaiwaqt:
2026-07-24@10:34:12 GMT

سیاسی کشیدگی: صدر‘ وزیراعظم‘ بلاول کی ملاقات طے 

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

سیاسی کشیدگی: صدر‘ وزیراعظم‘ بلاول کی ملاقات طے 

اسلام آباد (عترت جعفری) صدر کی طرف سے پاکستان کے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں  کشیدگی  کو کنٹرول کرنے کے لیے مداخلت کے بعد امید ہے کہ یہ معاملہ آئندہ چند روز میںصورت حال بہتر ہو جائے گی اور پی پی پی کو اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کو ئی سخت فیصلہ نہیں کرنا پڑے گا، ای  سی سی کا اجلاس بلانے کی تیاری کی جا رہی ہے ، ذرائع نے بتایا کہ بلاول  بھٹو زرداری بھی کراچی سے دو روز میں اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، صدر وزیراعظم اور پی پی پی کے چیئرمین کے درمیان ایک ملاقات طے کی گئی ہے جس میں تمام اختلافی امور پر بات چیت کی جائے گی۔ پی  پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اعلیٰ سطح  پر ان  رابطوں کے بعد صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پھر اس پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا جائے گا جس کی تیاری کی جا رہی ہے، جس میں مختلف آپشنز زیر غور آئیں گے۔ پارٹی ذرائع نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو تین چیزوں پر بہت زیادہ دکھ ہوا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ پنجاب میں پانی کے حوالے سے ایک طے شدہ  فیصلے کو دوبارہ متنازعہ بنایا، بلاول پر سازش کرنے کا الزام عائد کیا اور پی پی کے بار بار مطالبہ کے باوجود بی آئی ایس پی کو پنجاب میں رول ادا کرنے سے روکا، پیپلز پارٹی پنجاب پہلے اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ پنجاب میں اس  کو شیئر نہیں دیا جا رہا اور کسی بھی ترقیاتی معاملے میں اس سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی اور بار بار کمیٹیون کے اجلاسوں کے بعد بھی  پنجاب میں صورتحال تبدیل نہیں ہوئی ، بلاول بھٹو زرداری پر یہ دباؤ موجود ہے کہ پنجاب میں صورتحال بہتر نہ ہونے کی صورت میں وفاق میں اپوزیشن میں بیٹھنا زیادہ بہتر سیاسی آپشن  ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کا وفاقی وزیر داخلہ کو صورتحال  میں اپنے پاس بلانا معنی خیز ہے، گزشتہ روز سپیکر کے چیمبر میں ہے ایوان میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک میٹنگ ہوئی تھی تا ہم اس میں دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، بعد ازاں سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ صدر وزیراعظم اور بلاول بھٹو کے درمیان ایک ملاقات طے ہے جو کہ اب وزیراعظم کی بیرون ملک آمد کے بعد ہو گی، اس پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے نتائج کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا اور پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو میں معاملے کو لے جا کر حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا تاہم مقتدر سیاسی حلقوں کا یہ کہنا تھا کہ ان دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری کشیدگی کو قابو کر لیا جائے گا اور ایوان میں نشستیں بدلنے کا کوئی امکان نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے درمیان کے بعد

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو