ہتھیار، گاڑیاں اور نقد رقم: اسرائیل غزہ میں حماس کی دشمن عسکری تنظیموں کو کیسے پال رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
امریکی خبر رساں ادارے کی ایک تازہ اور تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں ”پاپولر فورسز“ نامی ایک مسلح تنظیم کو حماس کے خلاف اسرائیل اور بعض امدادی اداروں کی خفیہ مدد حاصل ہے۔ اس مدد میں نقد رقم، اسلحہ، گاڑیاں اور حتیٰ کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں تعاون بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس گروپ کی قیادت یاسر ابو شباب نامی شخص کر رہا ہے، جو پہلے لوٹ مار کے ایک بدنام گروہ کا سربراہ رہ چکا ہے، اور اب وہ غزہ میں اپنی سیاسی اور عسکری طاقت بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
اسکائی نیوز کی ٹیم نے کئی ماہ تک اس گروہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاپولر فورسز کا مرکز جنوبی غزہ کے ایک نسبتاً محفوظ علاقے میں قائم ہے، جہاں خوراک، طبی امداد، ایک اسکول اور مسجد بھی موجود ہے۔ یہاں تقریباً پندرہ سو افراد مقیم ہیں، جن میں پانچ سے سات سو تک مسلح جنگجو شامل ہیں۔ اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر اس گروپ کے پاس غزہ بھر میں تین ہزار کے قریب جنگجو ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس گروہ کے زیرِ اثر علاقہ کرم شالوم امدادی راہداری کے قریب ہے، جس کی وجہ سے وہ امدادی سامان پر قبضہ یا اس کی تقسیم پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی گزشتہ سال ایک رپورٹ میں ابو شباب کے گروہ کو “امدادی قافلوں کی لوٹ مار میں ملوث بڑے گروہوں” میں شمار کیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق ان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ سگریٹ کی اسمگلنگ ہے، کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں تمباکو پر پابندی لگا رکھی ہے جس سے قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔
اسکائی نیوز کو ایک نام ظاہر نہ کرنے والے اسرائیلی فوجی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ابو شباب کے گروہ کو پیسے، بندوقیں، گاڑیاں اور خوراک فراہم کی۔ مذکورہ فوجی کے الفاظ میں ’سرائیل ان کی مدد کرتا ہے، انہیں ہر چیز دیتا ہے۔‘
اسکائی نیوز کو ملنے والی ویڈیوز میں بھی دیکھا گیا ہے کہ پاپولر فورسز کی گاڑیاں اسرائیلی نمبر پلیٹس کے ساتھ چل رہی ہیں، اور ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ان کی کارروائیاں اسرائیلی فضائی حملوں کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، 13 اپریل کو رفح کے قریب پاپولر فورسز پر حماس کے جنگجوؤں نے حملہ کیا، اگلے ہی دن اسی جگہ اسرائیلی فضائی حملے میں وہ عمارت تباہ کر دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل کی اس حکمتِ عملی کا مقصد غزہ میں مزاحمت کو تقسیم کرنا ہے، تاکہ حماس یا دیگر گروہوں کی طاقت کم کی جا سکے۔
بین الاقوامی ماہر امجد عراقی نے اس حوالے سے کہا کہ ’ایسی ملیشیاؤں کی حمایت سے فلسطینی مزاحمت کمزور ہوتی ہے اور مختلف گروہوں میں پھوٹ بڑھتی ہے۔‘
لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے پروفیسر نیوی گورڈن کے مطابق ’یہ منصوبہ غزہ کو مختلف گروہوں میں بانٹنے اور فلسطینی اتحاد کو توڑنے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘
اقوامِ متحدہ اور نارویجن ریفیوجی کونسل کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ کسی مسلح گروہ کو امداد دینا انسانی قوانین اور غیرجانبداری کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ان کے مطابق جب کسی گروہ کو امدادی سامان پر براہ راست کنٹرول ملتا ہے، تو وہ اسے اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، جس سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے آخر میں اسکائی نیوز نے لکھا ہے کہ پاپولر فورسز کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں غزہ میں ایک نئے طاقتور مگر خطرناک دھڑے کے ابھرنے کا اشارہ دیتی ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف امدادی کاموں اور انسانی حقوق کے لیے چیلنج ہے بلکہ مستقبل میں غزہ کے اندرونی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسکائی نیوز رپورٹ کے کے مطابق گروہ کو کے لیے
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے