فرانسیسی سوشل میڈیا اسٹار کو لوگوں کو سرنجیں گھونپتے پھرنے پر جیل کی ہوا کھانی پڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پیرس کی سڑکوں پر لوگوں کو مذاق کے طور پر سرنج سے ڈرانے اور اس کی ویڈیوز بنانے پر 6 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: متنازعہ پرینک ویڈیو بنانے پر معروف ٹک ٹاکر کو پابندی کا سامنا
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امین موجیتو کے نام سے مشہور اس شخص کا اصل نام ایلان ایم. ہے۔ اس نے ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں جن میں وہ راہگیروں کو خالی سرنج سے یوں ظاہر کرتا کہ جیسے وہ انہیں انجیکشن لگا رہا ہو اور وہ بھی ایسے وقت میں جب حقیقی سرنج حملوں کا خوف فرانس میں عروج پر تھا۔
عدالت میں پیشی کے دوران 27 سالہ ایلان نے کہا کہ میں نے صرف دوسروں کی نقل کی۔
سوشل میڈیا اسٹار نے کہا کہ میں نے بہت بری سوچ اپنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسپین اور پرتگال میں ایسی ویڈیوز دیکھیں اور ان کی نقل کی لیکن میں نے نہیں سوچا کہ اس سے کسی کو نقصان ہو سکتا ہے۔
ایلان پر ایسے ہتھیار کے ساتھ تشدد کا الزام لگا جو کسی جسمانی معذوری کا باعث تو نہیں بنا مگر پھر بھی متاثرہ افراد پر شدید نفسیاتی اثرات چھوڑ گیا۔
متاثرین کو اسپتال لے جانا پڑااستغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ ویڈیوز میں اصل انجیکشن نہیں لگایا گیا تھا (کیونکہ سرنج پر حفاظتی ڈھکن موجود تھا) لیکن پھر بھی یہ عمل اتنا خوفناک اور گمراہ کن تھا کہ کئی متاثرین کو نفسیاتی معائنے کے لیے اسپتال جانا پڑا۔
مزید پڑھیے: ’اگر سیکیورٹی گارڈ گولی چلا دیتا تو کیا ہوتا‘، نوجوانوں کی پرینک ویڈیو پر صارفین برہم
ایک متاثرہ فرد نے عدالت کو بتایا کہ مجھے ایسا لگا جیسے مجھے کسی وائرس سے متاثر کر دیا گیا ہو اور وہ ایک خوفناک خواب جیسا تجربہ تھا۔
عدالت کا سخت مؤقفاگرچہ ملزم کے وکیل نے رحم کی درخواست کی لیکن جج نے کہا کہ اس قسم کی حرکتیں عوام میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
جج کے مطابق یہ مذاق نہ صرف غیر ذمہ دارانہ تھا بلکہ دوسروں کو ایسے حملے کرنے کی ترغیب دینے کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔
سزا کی تفصیلعدالت نے امین موجیتو کو 12 ماہ قید کی سزا سنائی جس میں 6 ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے جبکہ باقی 6 ماہ معطل کر دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی اداکارہ ودیا بالن کا انگلش نہ بول سکنے کا پرینک کیسے ہوا ناکام؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی خواہش میں بعض افراد ایسے خطرناک مذاق کر بیٹھتے ہیں جو دوسروں کی زندگی، صحت اور ذہنی سکون کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ اس کیس نے واضح کر دیا ہے کہ صرف مذاق کہہ کر کسی بھی غیر قانونی یا خوف پھیلانے والے عمل کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امین موجیتو پرینک پرینک پر جیل پیرس فرانس نقلی انجیکشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امین موجیتو پرینک پر جیل پیرس نقلی انجیکشن سوشل میڈیا کہا کہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ