سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-18
لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور کی ضلع کچہری میں مقامی جوڈیشل عدالت نے ریاست مخالف ٹویٹ اور صوبائی وزیر کی نامناسب تصویر اپ لوڈ کرنے کے مقدمہ میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ و تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید کی بہن فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کر دی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ اس مقدمے میں اشتہاری رہ چکی اور ان کی ایک کنال کی جائیداد بھی ضبط کرائی گئی ہے، فلک جاوید کے سوشل میڈیا پر تین لاکھ اناسی ہزار فالوورزاور وہ پنجاب میں بیٹھ کر ریاست مخالف بیانیہ پھیلا رہی ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ کو بیس دن کے لیے جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل ہو اور سوشل میڈیا آئی ڈی و پاسورڈ تک رسائی حاصل کی جا سکے۔دوسری جانب فلک جاوید کے وکیل رانا عبدالمعروف نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر جھوٹ پر مبنی اور اس میں چھ نام ہیں لیکن ان کی موکلہ کو محض ان کی بہن صنم جاوید کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ این سی سی آئی اے نے پہلے ریمانڈ پر موبائل ریکور کرنے کا کہا تھا مگر آج تک کوئی برآمدگی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمہ پہلے ہی جیل کسٹڈی میں اور مزید جسمانی ریمانڈ دینا بلاجواز ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ فلک جاوید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعدازاں این سی سی آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے فلک جاوید کا جسمانی ریمانڈ چار روز کے لیے بڑھا دیا۔ملزمہ کے خلاف نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ریاست مخالف ٹویٹ اورصوبائی وزیر کے خلاف نامناسب تصویر اپلوڈ کرنے کا مقدمہ درج کررکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلک جاوید کے سوشل میڈیا
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔