سوشل میڈیا انفلواینسرز کو اسرائیل کی جانب سے ہزاروں ڈالرز دینے پر ایران کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ نے حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت 14 سے 18 سوشل میڈیا کے ایک گروپ کو صیہونی حکومت کی حمایت میں ایک ایک پوسٹ کے تقریبا 7،000 ڈالر ادا کرتی ہے، تاکہ امریکی عوام میں اسرائیل کا مثبت امیج پیدا کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ صہیونی حکومت کی جانب سے سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا پر کام کرنیوالے موثر لوگوں کو ہزاروں ڈالرز دینے کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر جھوٹ بولنے والے کسی بھی فرد کو پیسے نہیں دیتے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر لکھا کہ ہم سوشل میڈیا پر جھوٹ بولنے والے کو پیسے نہیں دیتے، یہ اسرائیل ہی ہے جو ایسا کر رہا ہے۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ نے حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت 14 سے 18 سوشل میڈیا کے ایک گروپ کو صیہونی حکومت کی حمایت میں ایک ایک پوسٹ کے تقریبا 7،000 ڈالر ادا کرتی ہے، تاکہ امریکی عوام میں اسرائیل کا مثبت امیج پیدا کیا جا سکے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وسیع پیمانے پر بین الاقوامی کشیدگی اور غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں، سی این این کے میزبان وان جونز نے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کے بارے میں نامناسب مذاق کرکے ایک ہائی پروفائل ٹی وی شو میں ردعمل کو بھڑکایا تھا۔ انہوں نے ایران اور قطر پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ فلسطینی متاثرین کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان ریمارکس کو آن لائن تنقید کی لہر کا سامنا کرنا پڑا ، اور آخر کار اسے اس "بے ہودہ طنز" پر معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔