ایران کے ایٹمی پروگرام پر لگے الزامات بے بنیاد ہیں: صدر مسعود پزشکیان
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر لگے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔
حال ہی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی ریاستی دفاعی ڈاکٹرین میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
انہوں نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کو ہر قسم کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام میں ایٹمی ہتھیاروں کا حصول شامل نہیں ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ایٹمی پروگرام عالمی مانیٹرنگ کے ساتھ جاری تھا، مگر امریکا نے یکطرفہ طور پر 2015ء کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ معاہدہ ختم کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کے خاتمے کے بعد یورپین کمپنیاں ہمارے ساتھ تعاون کرنے آئی تھیں، ان پر دباؤ ڈالا گیا اور وہ ایک ایک کر کے ایران سے چلی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یقیناً ہم بہتر معاشی صورتحال چاہتے ہیں، لیکن انقلابِ ایران کے بعد امریکا ایران کو معاشی طور پر خود کفیل بننے سے روکنے کی کوشش کرتا ہوا آرہا ہے اس لیے وہ کبھی لسانی کبھی قبائلی تنازعات کو ہوا دیتا رہا، امریکا نے ہی ایران کے خلاف جنگ میں صدام حسین کی حمایت کی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے خواہش مند ہیں، لیکن اسرائیلی حکومت کو اپنی روش تبدیل کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اس کو اس معاملے میں امریکی حمایت و منظوری حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایٹمی پروگرام ایران کے انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔