افغان فٹ بال ٹیم کے ویزوں کا مسئلہ حل کرانے کیلئے کوشاں ہیں، شاہد کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے قائمقام سیکریٹری شاہد کھوکھر نے کہا ہے کہ فیڈریشن افغان ٹیم کے ویزوں کا مسئلہ حل کرانے کےلیے کوشاں ہے۔
ایک بیان میں شاہد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان فٹ بال کا کوالیفائر مرحلے کا میچ کھیل کی ترقی کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے افغان فٹ بال ٹیم کے ویزوں کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔
ذرائع کے مطابق اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائر میچ کےلیے افغان ٹیم کو تاحال پاکستان کے ویزے جاری نہیں ہوسکے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کی ٹیموں کے درمیان میچ 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں شیڈول ہے، رولز کے تحت افغان ٹیم کو میچ سے 2 روز قبل یعنی کل 7 اکتوبر تک اسلام آباد پہنچنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ویزوں کے اجراء میں تاخیر کی وجہ سے افغانستان کی فٹ بال ٹیم کا پروگرام غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگیا ہے۔
پی ایف ایف ذرائع کے مطابق افغانستان فٹ بال ٹیم نے کابل سفارتخانے میں 25 تا 27 ستمبر کے درمیان درخواستیں دیں لیکن کابل میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی وجہ سے کمیونیکیشن کا عمل تاخیر کا شکار رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ایف ایف کو افغان فیڈریشن سے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ویزا ریفرنس نمبر ملے، جس کے بعد فیڈریشن نے متعلقہ حکام کو پراسیس فاسٹ ٹریک کرنے کی درخواست کی۔
ذرائع پی ایف ایف کے مطابق پر امید ہیں کہ منگل کی صبح تک افغانستان کی فٹ بال ٹیم کو پاکستان کے ویزے مل جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق فٹ بال ٹیم پی ایف ایف
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ