غزہ میں امن کی ذمہ داری پہلے عالم اسلام پھر عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے:صدراردوان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہےکہ قبلہ اول القدس کا دفاع آخری دم تک کرتے رہیں گے، غزہ میں امن کی ذمہ داری پہلے عالم اسلام اور پھر عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے۔
رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ فلسطین میں جاری نسل کشی کے خلاف سب سے مؤثر آواز ترکیےکی ہے، غزہ پر غیر متزلزل موقف سے عالمی سطح پر روشن مثال قائم ہوئی ،قبلہ اول القدس کا دفاع آخری دم تک کرتے رہیں گے، ہم نے غزہ کے ان بہادر بیٹوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جنہوں نے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس قابض افواج کا دلیرانہ مقابلہ کیا۔یہ بات انہوں نے انقرہ میں ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی میں نئے مقننہ سال کے موقع پر خطاب کرتے ہوئےکہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجتی کے لیے اسرائیل کے ساتھ تجارت منقطع کی، ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں پہلا موضوع غزہ میں خونریزی کا خاتمہ تھا، ترکیے نے غزہ میں امن کے لیے عملی تجاویز پیش کیں، ترکیے اُس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا جب تک مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔
صدر اردوان کا کہنا تھا کہ غزہ اب مزید خون، آنسو اور تباہی برداشت نہیں کر سکتا، یہ شرمناک صورتحال فوراً ختم ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔