انسداد دہشتگردی ایکٹ کے مجرموں کو معافی غیر آئینی قرار، عدالت عالیہ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
عدالت نے محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات کو ہدایت دی کہ قانون کے منافی تمام معافیاں واپس لی جائیں اور آئندہ کسی بھی رعایت کے اجرا میں قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ عدالت عالیہ بلوچستان انسداد دہشتگردی ایکٹ میں سزا یافتہ مجرموں کی سزائیں معاف کرنے کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے آئی جی جیل جات اور محکمہ داخلہ کو ہدایات جاری کیں ہیں کہ ان قیدیوں کو دی گئی معافیاں واپس لی جائیں۔ ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 (ATA) کے تحت سزا یافتہ مجرم کسی بھی قسم کی عام یا خصوصی معافی کے حق دار نہیں ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 21-ایف کے مطابق دہشت گردی کے مجرموں کی سزائیں کم نہیں کی جا سکتیں، اور یہ شق کسی تشریح یا نرمی کی متحمل نہیں ہے۔ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تمام آئینی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ اس قانون کا مقصد عوامی تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف سختی کو یقینی بنانا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو عام قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے مجرم ایک علیحدہ قانونی طبقہ ہیں، اس لیے انہیں معافی سے محروم رکھنا آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ عدالت نے محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات کو ہدایت دی کہ قانون کے منافی تمام معافیاں واپس لی جائیں اور آئندہ کسی بھی رعایت کے اجرا میں قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔ فیصلے کے مطابق تمام سزا یافتہ قیدی اپنی سزا کا کم از کم دو تہائی حصہ لازمی کاٹیں، جبکہ عدالت نے بی کلاس سہولتوں اور غیر قانونی رعایتوں کا بھی نوٹس لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔