خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی سمیت اپوزیشن کے تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے  ۔
وزارتِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کے منصب کے لیے مجموعی طور پر 4 امیدوار میدان میں ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سہیل آفریدی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی کے ارباب زرک، اور مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہجہان وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہیں۔
کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی گئی۔
اب تمام نگاہیں اسمبلی میں ہونے والے وزیراعلیٰ کے انتخاب پر مرکوز ہیں، جہاں حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ کا سلسلہ تیز ہو گیا  ۔
قبل ازیں پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے لیے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے تھے، جس کی کاغذات کی جانچ پڑتال شام 4 بجے تک مکمل ہوگئی تھی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سہیل آفریدی، جے یو آئی (ف) کے مولانا لطف الرحمان، مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہجہان یوسف اور پیپلز پارٹی کے ارباب زرک نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔
اس موقع پر سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب آئین کے مطابق ہو رہا ہے اور وہ اپنا پالیسی بیان اسمبلی فلور پر پیش کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو باہر سے مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
دوسری جانب ڈاکٹر عبد اللہ نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولانا لطف الرحمان کو وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار بنایا گیا تھا جب کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ڈاکٹر عباد اللہ خان کو امیدوار نامزد کیا گیا تھا جب کہ اپوزیشن اتحاد نے مولانا لطف الرحمان کے نام پر اتفاق کرلیا تھا۔
مولانا عطاالرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا کریں گی، جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، اس پیشرفت کے بعد صوبائی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مولانا لطف الرحمان سہیل ا فریدی کے انتخاب

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا