پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 200 سے زائد طالبان و وابستہ دہشتگرد ہلاک، 30 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا: آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
اسکرین گریب آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج نے پاک افغان سرحد کے لمبے حصے پر پاکستان پر حملہ کیا، فتنہ الخوارج نے بلا اشتعال اور دشمنانہ کارروائی کے طور پر پاکستان پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس اور نقصان کے تخمینے کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 200 سے زائد طالبان اور وابستہ دہشت گرد ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے، جھڑپوں میں 23 بہادر جوانوں نے دفاعِ وطن میں جامِ شہادت نوش کیا، 29 سپاہی زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان متعدد لاشیں اور پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے، افغانستان کی جانب سے جارحیت اُس وقت کی جا رہی ہے جب افغان وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق افغان طالبان اور بھارت کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج نے 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب حملہ کیا، بزدلانہ اقدام میں فائرنگ اور چند مقامات پر دراندازی کی گئی، حملہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کر کے دہشت گردی کے اہداف کی تکمیل کے لیے کیا گیا، حقِ دفاع کے تحت پاک فوج نے سرحدی پٹی پر مؤثر اور فیصلہ کن ردِعمل دیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ حملہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کر کے دہشت گردی کے اہداف کی تکمیل کے لیے کیا گیا، حقِ دفاع کے تحت پاک فوج نے سرحدی پٹی پر مؤثر اور فیصلہ کن ردِعمل دیا، پاکستان کی مسلح افواج نے حملے کو پسپا کر دیا، مسلح افواج نے طالبان فورسز اور ان سے وابستہ خوارج کو سنگین جانی نقصان پہنچایا، افغان علاقے میں موجود طالبان کے کیمپس اور پوسٹس پر فائرنگ کی گئی، طالبان کے کیمپس اور پوسٹس پر فضائی ضربیں لگائی گئیں اور کارروائیاں کی گئیں، دہشت گردی کی تربیتی آماجگاہوں اور حمایتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، ان میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش سے وابستہ عناصر شامل ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ شہری جان و مال کے تحفظ اور غیر ضروری جانی نقصان سے بچنے کی تمام احتیاطی تدابیر کی گئیں، بلا اشتعال اور مستقل کارروائیوں میں سرحدی پٹی پر متعدد طالبان مقامات تباہ کیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا ہے کہ افغان طالبان کی جانب دشمن کی 21 پوزیشنز پر وقتی طور پر قبضہ کیا گیا، دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں استعمال ہونے والے متعدد تربیتی کیمپس کو تباہ کیا گیا، طالبان پوسٹس، کیمپس، ہیڈ کوارٹرز اور دہشت گرد سپورٹ نیٹ ورکس کے انفرااسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا، پاک فوج اپنے عوام کی جان و مال اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، ہمارا عزم پاکستانی سر زمین کے دفاع اور اپنی سلامتی کو خطرہ پہنچانے والوں کے خاتمے کے لیے غیر متزلزل ہے، پاکستان کے عوام، تعمیری سفارت کاری اور مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا، یہ سنگین اشتعال انگیزی طالبان کے وزیرِ خارجہ کے دورۂ بھارت کے دوران کی گئی، بھارت کو ہم خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سہولت کار قرار دیتے ہیں، طالبان حکومت سے مطالبہ ہے کہ دہشت گرد گروپوں کو فوری اور قابلِ توثیق اقدامات سےختم کرے، دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنا علاقائی امن و سلامتی کے مفاد میں ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت اپنی سر زمین پر موجود فتنہ الخوارج کا خاتمہ کرے، فتنہ الہندوستان اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں کو بھی فوری اقدامات سے ختم کیا جائے، بصورتِ دیگر پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے دہشت گرد اہداف کو نیوٹرالائز کرتا رہے گا، طالبان حکومت کو چاہیے کہ کسی بھی خطرناک یا جارحانہ اقدام سے باز رہے، طالبان حکومت افغان عوام کی بہبود، امن، ترقی اور خوش حالی کو مقدم رکھے، طالبان حکومت بعض دہشت گرد عناصر کی مدد و سرپرستی میں ملوث ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ طالبان حکومت بھارت سے مل کر علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے، طالبان حکومت کو دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی ترک کرنا ہو گی، پاکستانی عوام اور ریاست افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاک فوج کے شعبہ ا ئی ایس پی ا ر فتنہ الخوارج کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردی کے تعلقات عامہ کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔