سپریم کورٹ (ایس سی) کے 8 رکنی آئینی بینچ (سی بی) نے بدھ کے روز 26ویں ترمیم کو چیلنج کرنے کی درخواستوں پر دوبارہ سماعت شروع کر دی۔

آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں، وکلا بھی آئین پر انحصار کرتے ہیں، جب تک آئین میں کوئی مزید ترمیم نہیں ہوتی، ہمیں موجودہ آئین پر ہی عمل کرنا ہوگا۔

26 ویں ترمیم کو گزشتہ سال اکتوبر میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا تھا، عدالتی اختیارات اور مدتِ ملازمت میں تبدیلی سے متعلق ہے، اس ترمیم نے عدلیہ کی خودمختاری پر اثرات کے باعث سیاسی جماعتوں اور قانونی ماہرین کے درمیان شدید بحث کو جنم دیا ہے۔
اس ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس (سوموٹو) کے اختیارات ختم کر دیے گئے تھے، چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) کی مدتِ ملازمت 3 سال مقرر کی گئی تھی، اور ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ 3 سینئر ترین ججوں میں سے ایک کو سی جے پی نامزد کرے۔

یہی ترمیم آئینی بینچ کی تشکیل کا سبب بھی بنی، جو اب اسی قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے، جس نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔
اس قانون کو مختلف بار ایسوسی ایشنز، بار کونسلز، وکلا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بعض سیاست دانوں نے چیلنج کیا ہے، سپریم کورٹ کے روبرو یہ استدعا بھی موجود ہے کہ اس معاملے کی سماعت 8 رکنی بینچ کے بجائے فل کورٹ کرے۔

یہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں کام کر رہا ہے، جب کہ دیگر ارکان میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔

کیس کی سماعت تقریباً 8 ماہ بعد دوبارہ شروع ہوئی، اور عدالت نے متفقہ طور پر درخواست گزاروں کی استدعا پر کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ (براہ راست نشر کرنے) کی اجازت دے دی۔

زیرِ سماعت درخواستوں میں فل کورٹ کی تشکیل کی استدعا بھی شامل ہے، لہٰذا عدالت سب سے پہلے یہ طے کرے گی کہ آیا اس کیس کو سپریم کورٹ کے تمام دستیاب ججوں پر مشتمل فل کورٹ سنے یا موجودہ 8 رکنی بینچ ہی سماعت کرے۔

سماعت کے آغاز پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایل ایچ سی بی اے) کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان پیش ہوئے، انہوں نے مؤقف اپنایا کہ 26ویں ترمیم غیر معمولی انداز میں متعارف کرائی گئی اور رات کے وقت پارلیمان سے منظور کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں 17 جج موجود تھے، جن میں اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل تھے، جو بعد میں ریٹائر ہو گئے، لہٰذا انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اس وقت کے لحاظ سے 16 رکنی فل کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کرنی چاہیے، اور اس بینچ میں موجود تمام 8 جج اس وقت بھی سپریم کورٹ کا حصہ تھے۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق فروری میں تعینات ہونے والے 6 ججز کے بعد اس وقت عدالت عظمیٰ میں کل 24 جج ہیں، جن میں سی جے پی یحییٰ آفریدی بھی شامل ہیں۔

حامد خان نے کہا کہ یہ ترمیم آئین کے بنیادی خدوخال کے خلاف ہے، اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے دریافت کیا کہ کیا فی الحال یہ ترمیم آئین کا حصہ ہے؟
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں، وکلا بھی آئین پر انحصار کرتے ہیں، جب تک آئین میں کوئی مزید ترمیم نہیں ہوتی، ہمیں موجودہ آئین پر ہی عمل کرنا ہوگا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے مشاہدہ کیا کہ چاہے 26ویں ترمیم ’درست ہو یا غلط‘، عدالت نے اسے ابھی تک معطل نہیں کیا، آپ نے چوں کہ اس ترمیم کو آئین کا حصہ مان کر اسے چیلنج کیا ہے، اسی لیے یہ معاملہ ہمارے سامنے ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ فی الحال عدالت بنیادی مقدمے پر نہیں بلکہ فل کورٹ کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔

حامد خان نے کہا کہ وہ اس وقت ترمیم کی غیر آئینی نوعیت پر نہیں بلکہ اس کے ’اختیارات کے اثرات‘ پر دلائل دے رہے ہیں، اس ترمیم کے بعد پہلی بار چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینے کا اختیار ختم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) پہلے سے موجود تھا لیکن 26ویں ترمیم کے بعد جے سی پی کی تشکیل میں بھی تبدیلی آئی اور ’جج اقلیت میں رہ گئے‘ کیوں کہ ارکان کی تعداد بڑھا دی گئی۔

26 ویں ترمیم سے متعلق درخواستیں
درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ اگر یہ طے ہو کہ دونوں ایوانوں کے دو تہائی منتخب ارکان نے آزادانہ طور پر ووٹ نہیں دیا، تو عدالت 26ویں ترمیم کو طریقہ کار کی خلاف ورزی کی بنیاد پر کالعدم قرار دے۔

متبادل طور پر انہوں نے کہا کہ عدالت ترمیم کی ان دفعات کو ختم کرے جو عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیوں کہ عدلیہ کی خودمختاری آئین کی بنیادی خصوصیت ہے۔
ان دفعا میں ہائی کورٹ کے ججوں کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق دفعات (آرٹیکل 175A(1) اور آرٹیکلز 175A(18)-(20))، چیف جسٹس کی تقرری سے متعلق ترمیم شدہ آرٹیکل 175A(3)، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں آئینی بینچز سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ عدالت اعلان کرے کہ اصل آرٹیکل 175A(3) بدستور نافذ العمل ہے اور وفاقی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کو اسی کے مطابق چیف جسٹس مقرر کرے۔

انہوں نے آئینی بینچز کے قیام کو بھی غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی، اور مؤقف اختیار کیا کہ جن اراکینِ پارلیمان کے انتخابی تنازعات زیرِ سماعت تھے، ان کے ووٹ شامل کیے بغیر آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔

علاوہ ازیں، انہوں نے سپریم کورٹ (عمل و طریقہ کار) ایکٹ 2024 اور سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد میں ترمیم) ایکٹ 2024 کو بھی غیر آئینی، کالعدم اور بے اثر قرار دینے کی استدعا کی، کیوں کہ ان قوانین کی بنیاد ’غیر آئینی‘ 26ویں ترمیم پر ہے اور یہ اسی کے تحت غیر آئینی مقاصد کے حصول کی کوشش ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: آئین پر انحصار کرتے ہیں سپریم کورٹ کے 26ویں ترمیم کی استدعا استدعا کی نے کہا کہ ترمیم کے چیف جسٹس کی سماعت انہوں نے ترمیم کو فل کورٹ

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ