قبض کا توڑ: کنگز کالج لندن کے ماہرین نے نئے اصول وضع کردیے، کیوی پھل پر بھی زور
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کنگز کالج لندن کے محققین نے موجودہ تمام سائنسی شواہد کا تجزیہ کر کے قبض کے توڑ کے لیے نئے رہنما اصول وضع کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اسپارکلنگ واٹر واقعی کولڈ ڈرنکس کا صحتمند متبادل ہے؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین غذائیت نے قبض کے علاج کے لیے ڈاکٹروں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں جن میں یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ روزانہ چند دانے کیوی فروٹ کھانا قبض کی شکایت سے نجات دلانے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور یہ عمومی طور پر دی جانے والی زیادہ فائبر کھانے کی ہدایت سے کہیں بہتر ابتدائی قدم ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کیوی پھل روزانہ کھانا قبض کے علاج کے لیے فائبر پر زور دینے سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف فائبر پر زور دینا کافی نہیں بلکہ قبض کے علاج کے کئی مؤثر اور آسان طریقے موجود ہیں۔
قبض کیا ہے؟برطانیہ کی این ایچ ایس کے مطابق اگر آپ نے گزشتہ ہفتے میں 3 بار سے کم رفع حاجت کی ہو یا معمول سے کم بار باتھ روم گئے ہوں تو یہ قبض کی علامت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: پانچ خطرناک عادتیں جو آنتوں کی صحت برباد کرتی ہیں
رفع حاجت میں زور لگانا یا یہ محسوس ہونا کہ آنتیں مکمل صاف نہیں ہوئیں بھی قبض کی علامات میں شامل ہیں۔
لیکن تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ایرینی ڈیمیڈی کے مطابق قبض کی علامات کی تعداد 30 تک ہو سکتی ہے اور یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔
علاج: فروٹ، پانی اور میگنیشیمنئی تحقیق کے مطابق علاج کے لیے سب سے پہلے پھلوں اور پانی پر توجہ دی جائے نہ کہ بازار میں دستیاب نئے پروبایوٹک یا فائبر سپلیمنٹس پر۔
ڈاکٹر ڈیمیڈی کا کہنا ہے روزانہ 2 سے 3 کیوی یا 8 سے 10 آلو بخارے کھانے سے قبض میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
کیوی کا چھلکا اتار کر کھایا جائے یا نہیں؟چھلکے کے بغیر بھی کیوی فائدہ مند ہے اور فائبر فراہم کرتا ہے لیکن چھلکے کے ساتھ کھانا بھی نقصان دہ نہیں۔
مزید پڑھیں: فطری ماحول میں صرف 20 منٹ گزارنا آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے
کیوی میں موجود فائبر آنتوں کو تحریک دیتا ہے اور فضلے کو نرم کرتا ہے جس سے رفع حاجت آسان ہو جاتی ہے۔ آلو بخارے اور رائی بریڈ بھی اسی طرح کا اثر رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر ڈیمیڈی نے یہ بھی مشورہ دیا کہ منرل واٹر نل کے پانی کے مقابلے میں قبض کے لیے زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس میں ضروری معدنیات زیادہ ہوتے ہیں، خاص طور پر میگنیشیم جو قدرتی طور پر جسم میں مسہل کا کام کرتا ہے۔
اس لیے میگنیشیم آکسائیڈ سپلیمنٹس کے استعمال کو بھی تحقیق میں فائدہ مند قرار دیا گیا جو نہ صرف قبض کو کم کرتے ہیں بلکہ پیٹ کے درد، اپھارہ اور زور لگانے جیسی علامات میں بھی کمی لاتے ہیں۔
پروبایوٹک کا کردارنئی رہنمائی میں پروبایوٹکس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بعض اقسام چند علامات میں بہتری لا سکتی ہیں لیکن بہت سے پروبایوٹکس کے اثرات پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
پرانی ہدایات ناکافی تھیںتحقیق کے مطابق ڈاکٹروں کے لیے پہلے دستیاب رہنما اصول محدود اور پرانے ہو چکے تھے جن میں صرف فائبر اور پانی کی مقدار بڑھانے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔
نئی گائیڈ لائنز 75 کلینیکل ٹرائلز پر مبنی ہیں اور ایک ماہر پینل نے ان کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔
تحقیق کے سینیئر مصنف پروفیسر کیون وھیلن کے مطابق یہ نئی گائیڈ لائنز ڈاکٹروں اور مریضوں کو غذا کے ذریعے قبض کے مؤثر علاج کی جانب رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
برٹش ڈائیٹک ایسوسی ایشن جس نے اس منصوبے کی مالی معاونت کی کا کہنا ہے کہ یہ گائیڈ لائنز معالجین کے لیے ایک شاندار ذریعہ ہیں اور ایک سائنس پر مبنی، غذا پر مرکوز طریقہ علاج کو فروغ دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہسٹوٹرپسی: کینسر کے مریضوں کے لیے امید افزا خبر، بغیر آپریشن انقلابی علاج دریافت
پس اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزانہ 2-3 کیوی یا 8-10 آلو بخارے قبض کے توڑ کے لیے مؤثر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں منرل واٹر، میگنیشیم آکسائیڈ سپلیمنٹس فائدہ مند اور پروبایوٹکس کا محدود کردار بھی سودمند ہوسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قبض کا علاج کیوی پھل کیوی فروٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قبض کا علاج کے مطابق علاج کے قبض کی ہے اور قبض کے کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ