شدید گرمی کی لہر: اس سال فرانسیسی وائن کی پیداوار کم رہے گی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 اکتوبر 2025ء) فرانس کے دارالحکومت پیرس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی وزارت زراعت نے بتایا کہ اس سال ملک میں وائن کی مجموعی پیداوار سے متعلق جو گزشتہ اندازے موسم بہار میں لگائے گئے تھے، ان کے تحت یہ پیداوار تقریباﹰ 37.4 ملین ہیکٹو لٹر رہنا تھی۔
تاہم رواں برس اگست میں کئی دیگر مغربی یورپی ممالک کی طرح فرانس کو بھی شدید گرمی کی جس لہر کا سامنا کرنا پڑا، اس نے ملکی زرعی شعبے اور وائن کی تیاری میں استعمال ہونے والے انگوروں کی فصل کو بھی متاثر کیا۔
تازہ اندازوں کے مطابق ان موسمی اثرات کے نتیجے میں دنیا بھر میں پسند کی جانے والی فرانسیسی وائن کی رواں برس کے دوران کُل پیداوار اب 37.
(جاری ہے)
گزشتہ پانچ برسوں کی سالانہ اوسط سے 16 فیصد کم پیداواریورپی یونین کی بڑی اقتصادی طاقتوں میں شمار ہونے والے فرانس کو اپنی مجموعی قومی آمدنی کا ایک کافی بڑا حصہ وائن کی فروخت خاص کر برآمد سے حاصل ہوتا ہے۔
اس حوالے سے فرانسیسی وزارت زراعت نے یہ بھی بتایا کہ وائن کی پیداوار سے متعلق تازہ ترین اندازوں کے لیے ملک میں ستمبر تک کا جو ڈیٹا استعمال کیا گیا، اس سے دو باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔
ایک یہ کہ اس سال وائن کی پیداوار گزشتہ برس کے مقابلے میں کم رہے گی، اور دوسری یہ کہ یہ پیداوار اس حد تک کم رہے گی کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں کی اوسط سالانہ پیداوار سے بھی 16 فیصد کم ہو گی۔
2020ء سے لے کر 2024ء تک کے پانچ سالہ عرصے میں فرانس میں وائن کی اوسط سالانہ پیداوار 42.86 ملین ہیکٹو لٹر رہی تھی، جو 2025ء میں اب صرف 36 ملین ہیکٹو لٹر رہے گی۔
ایک ہیکٹو لٹر وائن کتنی ہوتی ہے؟وہ ممالک، جہاں وائن کی پیداوار کافی زیادہ ہوتی ہے، وہاں اس پیداوار کی پیمائش کا پیمانہ ہیکٹو لٹر کہلاتا ہے۔
ایک ہیکٹو لٹر 100 لٹر کے برابر ہوتا ہے اور 0.7 لٹر کی اسٹینڈرڈ سائز سمجھی جانے والی وائن کی بوتلوں کے حساب سے ایک ہیکٹو لٹر 133 بوتلوں کے برابر بنتا ہے۔
یورپ میں متعدد ممالک ایسے ہیں، جہاں وائن کی پیداوار بہت زیادہ ہوتی ہے اور وہ وائن برآمد بھی کرتے ہیں۔ ان ممالک میں کسی حد تک جرمنی بھی شامل ہے۔
تاہم فرانسیسی وائن دنیا میں مشہور ہے اور اسی لیے بہت زیادہ برآمد بھی کی جاتی ہے۔
جہاں تک یورپی یونین کے رکن ایسے دیگر ممالک کا تعلق ہے، جہاں تیار کردہ وائن کی بیسیوں اقسام مشہور بھی ہیں اور برآمد بھی کی جاتی ہیں، ان ملکوں میں سے اٹلی اور اسپین سب سے آگے ہیں۔
اسی لیے روایتی طور پر فرانس، اٹلی اور اسپین کے مابین یہ مقابلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ وائن تیار کرنے والا ملک کون سا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وائن کی پیداوار رہے گی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے