پختونخوا کے نئے نامزد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے علی امین گنڈا پور کو خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ سے ہٹائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا ہے۔
بشریٰ بی بی کے وکیل رائے سلیمان نے بھی علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ اعلیٰ پارٹی اور چیئرمین عمران خان کی امانت ہے، جب حکم دیا گیا، وہ منصب چھوڑ دیں گے۔
سہیل آفریدی کون ہیں؟
خیبر پختونخوا کے ممکنہ نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ وہ 2024 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔
ماضی میں وہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن خیبر پختونخوا کے صدر رہ چکے ہیں۔ موجودہ حکومت میں سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ کابینہ میں رد و بدل کے بعد انہیں وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مقرر کیا گیا۔
سہیل آفریدی تحریک انصاف کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔