data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف ( پی ٹی آئی)  کی جانب سے نامزد کردہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں بنایا جائے گا اور پی ٹی آئی خود ان کا نام تبدیل کرے گی۔

میڈیا سے  گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ ان کے ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندر شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ذرائع نے بتایا ہے کہ  سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہیں بنیں گے، پی ٹی آئی کل تک وزیراعلیٰ کے لیے نیا نام فائنل کرے گی جبکہ اپوزیشن بھی اپنا امیدوار سامنے لانے پر غور کر رہی ہے۔

ندیم افضل چن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ممکن ہے خیبرپختونخوا کے لیے کوئی سرپرائز یا متفقہ امیدوار سامنے آ جائے،اگلے دو روز صوبے کی سیاست کے لیے نہایت اہم ہیں اور اس دوران اہم فیصلے متوقع ہیں، سہیل آفریدی کی نامزدگی پی ٹی آئی کا اندرونی فیصلہ ہے، حالات اس سمت میں نہیں جا رہے کہ وہ وزیراعلیٰ بن سکیں۔

انہوں نے کہا کہ  پی ٹی آئی کو علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کی وجوہات واضح کرنا ہوں گی، ہم حکومت کا حصہ نہیں لیکن اتحادی ضرور ہیں اور ہم ان کی کسان دشمن پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔

ندیم افضل چن نے اعتراف کیا کہ بلاول زرداری نے حالیہ دنوں میں وزیراعظم مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف بھی کی ہے، حکومت کو تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا، خاص طور پر سیلاب کے دوران جب قومی سطح پر تعاون کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بی آئی ایس پی (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے ذریعے امدادی کارروائیاں کی جائیں تاکہ شفافیت یقینی ہو۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ پہلے ہم  پنجاب کا حساب لیں گے، پھر وفاق کا بھی حساب لیا جائے گا،  آصف زرداری اسلام آباد آئیں گے تو ان سے سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ندیم افضل چن نے پی ٹی آئی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا