سہیل آفریدی کے خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ نامزد ہونے پر مبارکباد دینے والوں کا رش
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا کی سیاست میں نیا موڑ، سہیل آفریدی مرکزِ نگاہ بن گئے، پارٹی کارکنوں اور عوام کی جانب سے سہیل آفریدی کو مبارک باد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا گیا، سہیل آفریدی کے گھر مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ خیبر پختونخوا کی سیاست میں نیا موڑ، سہیل آفریدی مرکزِ نگاہ بن گئے، پارٹی کارکنوں اور عوام کی جانب سے سہیل آفریدی کو مبارک باد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ سہیل آفریدی کے کزن داؤد آفریدی نے کہا کہ سہیل آفریدی کی وزیراعلیٰ کے منصب پر نامزدگی قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے لیے فخر کی بات ہے، ہمارے خاندان کے لیے انتہائی خوشی کا لمحہ ہے۔ داؤد آفریدی نے کہا کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، امید ہے کہ سہیل آفریدی صوبے کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کے خیبر پختونخوا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔