بشریٰ بی بی کے حمایت یافتہ خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ، سہیل آفریدی کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے دیرینہ، وفادار اور مشکل وقت کے ساتھی سمجھے جانے والے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر نوجوان رکنِ اسمبلی سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد کردیا ہے۔
سہیل آفریدی کون ہیں؟36 سالہ محمد سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے اُبھرتے ہوئے نوجوان سیاستدانوں میں سے ایک ہیں، جن کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے ہے، وہ سال 2024 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 70، خیبر II سے پہلی بار رکنِ خیبر پختونخوا اسمبلی منتخب ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:
سہیل آفریدی 12 جولائی 1989 کو قبائلی ضلع خیبر کے بااثر آفریدی قبیلے میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی، سہیل آفریدی کا خاندان کاروبار سے وابستہ ہے اور انہوں نے معاشیات میں ڈگری حاصل کی ہے۔
سیاسی سفرسہیل آفریدی تحریک انصاف کے پرانے نظریاتی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں اور سابق وفاقی وزیر و پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
سہیل آفریدی کا تعلق ایک متوسط مگر تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے اور کم عمری سے ہی ان کا رجحان سماجی خدمت اور نوجوانوں کی تنظیموں کی جانب رہا۔
وہ اپنے علاقے میں آپریشنز اور دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ ڈرون حملوں کے خلاف پی ٹی آئی کے دھرنوں میں بھی پیش پیش رہے۔
مزید پڑھیں:
دورانِ تعلیم وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور بعد ازاں تحریک انصاف کے طلبہ وِنگ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں سرگرم کردار ادا کیا، سہیل آفریدی نے عملی سیاست کا آغاز تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیا۔
ابتدائی دنوں میں وہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ذریعے پارٹی میں متحرک رہے اور نوجوان قیادت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
سال 2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے پی کے 70 سے تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا اور واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے۔
کامیابی کے بعد وہ صوبائی حکومت میں شامل ہوئے اور انہیں مشیر برائے مواصلات و تعمیرات کا عہدہ دیا گیا۔
عہدے اور کارکردگیسہیل آفریدی نے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں ڈیجیٹلائزیشن شامل ہے، وہ تمام منصوبوں اور ملازمین کے نظام کو جدید برقی نگرانی کے تحت لایا تاکہ ریکارڈ شفاف اور قابلِ رسائی ہو۔
انہوں نے صوبے بھر میں سڑکوں کی نگرانی، مرمت اور منصوبہ بندی کے لیے ایک نیا جامع نظام متعارف کرایا، جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ای-کھلی کچہری کا آغاز کیا۔
سہیل آفریدی علی امین کابینہ کے سرگرم ارکان میں شمار ہوتے تھے اور حالیہ ردوبدل میں انہیں وزیر بنا دیا گیا تھا، ان سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو واپس لے کر محکمہ اعلیٰ تعلیم کا قلمدان دے دیا گیا تھا۔
بشریٰ بی بی کا اعتمادسہیل آفریدی کو بشریٰ بی بی کا حمایت یافتہ بھی سمجھا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے باخبر رہنماؤں کے مطابق، بشریٰ بی بی کے پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں قیام کے دوران سہیل آفریدی ان کے رازدان بن گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی ڈی چوک مارچ سے قبل ہی علی امین سے ناراض تھیں اور پارٹی معاملات میں مداخلت کرتی تھیں، بتایا جاتا ہے کہ سہیل آفریدی کا نام بھی بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی سامنے آیا، جو پارٹی میں سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف رکھنے والے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلامی جمعیت طلبہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن بشریٰ بی بی تحریک انصاف خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی وزیر اعلی سہیل آفریدی کو تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا ہے اور
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔