خیبرپختونخوا کی نئی قیادت: سہیل آفریدی کے سیاسی سفر پر ایک نظر
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو ہٹاکر سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ بنانے کی ہدایت کردی جس پر علی امین گنڈا پور نے خود وزات اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر رہ چکے ہے۔ سہیل آفریدی 2024 کے عام انتخابات میں پہلی بار ضلع خیبر سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔اس کے علاوہ، سہیل آفریدی علی امین گنڈا پور کی کابینہ میں بحثیت معاون خصوصی برائے موصلات ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔تاہم گزشتہ ہفتے صوبائی کابینہ میں تبدیلی کے بعد سہیل آفریدی کو معاون خصوصی سے صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم بنایا گیا تھا.
2024 کے عام انتخابات میں سہیل آفریدی پی کے-70 ضلع خیبر سے پہلی بار کامیابی حاصل کر کے صوبائی اسمبلی پہنچے۔ اپنی سیاسی سمجھ بوجھ اور مضبوط تنظیمی پس منظر کے باعث وہ جلد ہی وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ٹیم میں شامل کیے گئے۔ابتدا میں انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے کمیونی کیشن اینڈ ورکس (C&W) کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شفاف عملدرآمد کے حوالے سے ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ بعد ازاں کابینہ میں رد و بدل کے دوران سہیل آفریدی کو وزیرِ برائے ہائر ایجوکیشن کا قلمدان دیا گیا، جہاں انہوں نے صوبے کی جامعات کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے۔ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کی اعلیٰ قیادت صوبے میں “نئی توانائی” اور “تنظیمی استحکام” لانے کے لیے قیادت کی تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ سہیل آفریدی کو ایک غیر متنازع، فعال اور نوجوان دوست چہرہ سمجھا جاتا ہے جو پارٹی کی نئی حکمتِ عملی کے عین مطابق ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق اگر یہ فیصلہ حتمی صورت اختیار کر لیتا ہے تو سہیل آفریدی خیبر پختون خوا کے پانچویں کم عمر وزیرِ اعلیٰ ہوں گے۔ پارٹی کے اندر ان کی نامزدگی کو “نئی قیادت کے عروج” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض مبصرین اسے عمران خان کے “نوجوان قیادت پر اعتماد” کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور سہیل آفریدی کو
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔