رجب بٹ کی نائٹ کلب میں لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرتے ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پاکستان کے متنازع ترین یوٹیوبر رجب بٹ کی برطانیہ کے ایک نائٹ کلب میں نشے کی حالت میں لڑکی کے ساتھ رقص کرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس کے بعد یوٹیوبر پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
رجب بٹ معروف پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں، جو اپنے فیملی ولاگز اور ٹک ٹاک لائیو سیشنز کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد اب 8.
حال ہی میں رجب بٹ کو ایک بار پھر برطانیہ کے ایک نائٹ کلب میں ایک لڑکی کے ساتھ رقص کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ ویڈیو کسی نے خفیہ طور پر ریکارڈ کی، جو واضح نہیں لیکن سوشل میڈیا صارفین نے فوراً انہیں پہچان لیا۔ یہ ویڈیو سب سے پہلے انسٹاگرام پیج ’’وائرل ورس‘‘ نے شیئر کی۔
سوشل میڈیا صارفین اس نئی ویڈیو پر شدید ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں اور رجب بٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے طنزیہ طور پر لکھا ’’اب ان کی ماں کہے گی کہ وہ اپنی بہن کو چھوڑنے گیا تھا۔‘‘ ایک اور نے کہا، ’’یہ کھانسی کی شربت کے اثرات ہیں، کچھ نہ کہیں۔‘‘
ایک صارف نے تبصرہ کیا ’’رجب بٹ رات 12 بجے کے بعد ایلومیناٹی بن جاتا ہے۔‘‘ مزید ایک طنز یہ بھی کیا گیا ’’اب اس کی ماں کہے گی کہ دوستوں نے اسے زبردستی کلب لے جا کر نیند کی گولیاں دے دی تھیں۔‘‘
یاد رہے کہ ابھی چند دن قبل ہی رجب بٹ کی والدہ کا بیان وائرل ہوا تھا جس میں وہ اپنے بیٹے کی نشے کی حالت کا دفاع کرتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ویڈیو کے کمنٹس میں صارفین ان کی والدہ پر بھی تنقید کررہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔