ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ و اساتذہ کیسا تھ نشست
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251116-01-11
راولپنڈی(صباح نیوز)پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دی ملینیم یونیورسل کالج اور فیوچر ورلڈ سکول میں طلبہ و اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے داخلی صورتحال اور ملکی دفاع کی اہمیت پر نوجوانوں سے اہم گفتگو کی، خصوصی نشست کے دوران طلباء اور اساتذہ کا پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج خودمختاری اور قومی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ عوام کی حفاظت بھی کرتی ہیں، نشست نے طلبہ کو روایتی سوچ سے ہٹ کر غوروفکر کرنے کا بھی موقع دیا۔ اساتذہ نے کہا کہ اس سیشن نے نوجوانوں کو پاکستانیّت، فعال شہریت اور سماجی ذمہ داریوں کے حقیقی تصور سے روشناس کیا۔ اس موقع پر طلبہ کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں پاک افواج کے کردار نے نوجوانوں میں پاکستان کے نا قابل تسخیر دفاع کا عزم بڑھایا، آج کی نشست سے احساس ہوا کہ میڈیا پر خبروں کو بغیر تجزیہ اور تصدیق کے پھیلانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ طلبہ نے دوٹوک کہا کہ پاک فوج ہم سے اور ہم پاک فوج سے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔