وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد نئے قائد ایوان نامزد ہونے والے سہیل آفریدی پر مقدمہ چلنے کا انکشاف ہوا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) پشاور نے 10 فروری 2025 کو سہیل آفریدی پر مقدمہ درج کیا، جس کے مطبق انہوں نے سرکاری اداروں کے خلاف منفی بیان بازی کی ہے۔ مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ آپ کی گفتگو لوگوں کو اکسانے کے زمرے میں آتی ہے۔

سہیل آفریدی کا مقدمہ چل رہا ہے فروری سے pic.

twitter.com/r30wwmDzV9

— Ammar Solangi (@fake_burster) October 8, 2025

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو مستعفی ہونے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو نیا قائد ایوان نامزد کردیا ہے، جس کے بعد علی امین گنڈاپور عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

نئے قائد ایوان نامزد ہونے والے سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ وہ پہلی مرتبہ پی کے 70 سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ماضی میں وہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن خیبرپختونخوا کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کا وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان

موجودہ حکومت میں سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ بعد ازاں کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں انہیں ہائر ایجوکیشن کے محکمے کا وزیر مقرر کردیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews خیبرپختونخوا سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور مقدمے کا انکشاف نئے قائدِ ایوان وزیراعلی وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی علی امین گنڈاپور مقدمے کا انکشاف نئے قائد ایوان وزیراعلی وی نیوز علی امین گنڈاپور سہیل ا فریدی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف