وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے کی وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔

اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حکم پر وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں، ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی پالیسی کےلیے ایک ہو کر آگے بڑھیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سہیل آفریدی کو میری مکمل حمایت اور سپورٹ حاصل رہے گی۔

خیبر پختونخوا کے نامزد وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کون ہیں؟

سہیل آفریدی کافی عرصے تک انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پی کے صدر رہے، وہ موجودہ حکومت میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کمیونی کیشن اینڈ ورکس رہے۔

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے علی امین گنڈاپور کو خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے کی تصدیق کی اور اس فیصلے کی وجہ بھی بتا دی تھی۔

سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ علی امین گنڈاپور کو کے پی کی وزارتِ اعلیٰ سے ہٹایا جا رہا ہے۔

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کیا گیا ہے، یہ بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے جس کا پسِ منظر بھی بیان کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی بدترین صورتِ حال ہے، آج اورکزئی میں ہمارے جوان اور افسر شہید ہوئے، خیبر پختونخوا حکومت کو کہا گیا کہ وفاق کی غلط پالیسی سے خود کو دور کرے۔

سہیل آفریدی وزیرِ اعلیٰ کے پی نامزد

رکن صوبائی اسمبلی سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کاوزیرِ اعلیٰ نامزد کیا گیا ہے، ان کا تعلق ضلع خیبر سے ہے، وہ پی کے 70 سے پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی بنے۔

بشریٰ بی بی کے وکیل رائے سلیمان نے علی امین گنڈاپور کو ہٹائےجانے کی تصدیق کر دی

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے وزیر اعلیٰ کے پی کو ہٹانے جانے کی خبروں سے اظہار لاعلمی کیا ہے۔

سہیل آفریدی کافی عرصے تک انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پی کے صدر رہے، وہ موجودہ حکومت میں وزیرِ اعلیٰ کے معاون خصوصی کمیونی کیشن اینڈ ورکس رہے۔

صوبائی کابینہ میں تبدیلی کے بعد سہیل آفریدی کو وزیر برائے ہائر ایجوکیشن بنایا گیا۔

سہیل آفریدی 2024 کے عام انتخابات میں پہلی بار ضلع خیبر سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، وہ پی ٹی آئی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن