اسلام آباد ہائیکورٹ: سینیٹر فرحت اللہ بابر کو ہراساں کرنے سے روکنے کے حکم میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کو ہراساں کرنے سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی۔
جسٹس انعام امین منہاس نے فرحت اللہ بابر کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ایف آئی اے کو جلد انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کرلی۔
درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری، ایف آئی اے حکام اور فرحت اللہ بابر عدالت میں پیش ہوئے۔
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے عدالت نے موقف اپنایا کہ سات ماہ سے انکوائری کررہے ہیں لیکن بتا نہیں رہے کہ انکوائری کیا ہے، ہمیں ابھی تک معلوم نہیں الزامات کیا ہیں۔
عدالت نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ جی بتائیں کیا انکوائری ہے اور الزامات کیا ہیں، شکایت کہاں ہے؟، ایف آئی اے افسر محمد سفیر نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر سے ریکارڈ منگوایا ہے جیسے ہی ملے گا انکوائری مکمل ہو جائے گی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر کو انکوائری جلد مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فرحت اللہ بابر عدالت نے
پڑھیں:
فواد چوہدری کی پانچ مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع
لاہور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی پانچ مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع کر دی۔ جمعہ کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سابق وفاقی وزیر فواد چو ہدری کیخلاف مختلف مقدمات پر سماعت کی،فواد چوہدری آج عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر وکلاء کی جانب سے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فواد چودھری بیمار ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں جس پر عدالت نے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فواد چوہدری کے وکیل سے ضمانتوں پر دلائل طلب کر لیے۔ فواد چوہدری پر مختلف مقامات پر کارکنان کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے اور پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے الزامات ہیں، ان کے خلاف جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے تین مقدمات درج ہیں جبکہ انہوں نے کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملے کے مقدمے میں بھی عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ مغلپورہ میں پولیس گاڑیوں کو آگ لگانے کے مقدمے میں بھی وہ عبوری ضمانت پر ہیں، تمام مقدمات تھانہ سرور روڈ، تھانہ ریس کورس اور تھانہ مغلپورہ میں درج کیے گئے تھے۔