پاکستان کے کابل اور قندھار میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے، اہم مرکز تباہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اکتوبر2025ء ) پاکستان کے کابل اور قندھار افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے، کابل میں فتنہ الخوارج کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائی کی، شہری آبادی سے الگ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب اور کامیابی سے تباہ کیا گیا۔
پاک فوج کی جانب سے چمن کی طرح کُرم سیکٹر میں بھی افغان حملہ ناکام بنادیا گیا اور مجموعی طور پر ہلاک حملہ آوروں کی تعداد 50 ہوگئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 15 اکتوبر 2025ء کو علی الصبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے سپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے جنہیں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا، اس دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، بدقسمتی سے یہ حملے علاقے کے تقسیم شدہ دیہات کے راستے سے کیے گئے جن میں شہری آبادی کی سلامتی کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔(جاری ہے)
فوج کے ترجمان ادارے کا کہنا ہے کہ افسوسناک طور پر افغان طالبان نے اپنی جانب واقع پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی تباہ کر دیا جو باہمی تجارت اور سرحدی قبائل کے روایتی حقوق کے بارے میں ان کی سوچ کا واضح عکاس ہے، جوابی کارروائی کے دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک و متعدد زخمی ہوئے یہاں امن و امان کی خراب صورتِ حال تاحال برقرار ہے، فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان کے مزید جتھوں کے جمع ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپن بولدک کا واقعہ منفرد یا الگ نوعیت کا نہیں، 14 اور 15 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کُرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی تھی، جسے پاکستانی فورسز نے بہادری سے پسپا کر دیا تھا، جوابی کارروائی میں افغان چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا اور دشمن کی 8 چوکیوں کے علاوہ 6 ٹینک بھی تباہ کیے گئے یہاں 25 سے 30 دہشت گرد مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افغان طالبان اور
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔