تین روزہ عالمی نمائش قالینوں کی صنعت ،معیشت کیلئے کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2025ء) تین روزہ عالمی نمائش ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت اور معیشت کیلئے بے پناہ کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اختتام پذیر ہو گئی ،غیر ملکی خریداروں کی جانب سے کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے رواں مالی سال میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات میں بڑے پیمانے پر اضافے کا تخمینہ ہے ۔ پی سی ایم ای اے کے چیئرمین میاں عتیق الرحمان اور چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد نے بتایا کہ تین روزہ عالمی نمائش نے ہماری توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی ہے ، غیر ملکی خریداروں نے اعلیمعیار اور دیدہ زیب ڈیزائنوں کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کو بے حد پذیرائی دی ہے اور عمومی جائزے کے مطابق نمائش میں سٹالز لگانے والے تمام مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان کو برآمدی آرڈرز ملے ہیں جو صنعت کے لئے ہوا کا تازہ جھونکا ہے ۔
(جاری ہے)
انہوں نے غیر ملکی خریداروں کی پاکستان آمد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے دورس نتائج ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی نمائش نہ صرف پاکستانی ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات میں اضافے کا بڑا ذریعہ ثابت ہوئی ہے جو مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے شکر گزار ہیں جن کی ہر طرح کی معاونت میسر آنے سے عالمی نمائش کو کامیاب بنانے میں مدد ملی ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالمی نمائش قالینوں کی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔