مرید کے آپریشن سے متعلق معلومات چھپانے کے انسانی حقوق کمیشن کے دعوے مسترد
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
مرید کے آپریشن سے متعلق معلومات چھپانے کے انسانی حقوق کمیشن کے دعوے مسترد WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز )وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے مرید کے آپریشن سے متعلق معلومات کو چھپانے کے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے دعووں کو مسترد کر دیا۔مریدکے آپریشن تحریک لبیک پاکستان فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالے گئے مارچ کو منتشر کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ٹی ایل پی نے 9 اکتوبر کو لاہور میں احتجاج کا آغاز کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف مارچ کریں گے، یہ معاہدہ دو سالہ غزہ تنازع کے بعد طے پایا تھا۔
یہ مظاہرے جلد ہی پرتشدد صورت اختیار کر گئے تھے، اور پولیس کو پتھرا کرنے والے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا تھا۔اگلے دن، لاہور کے شاہدرہ علاقے میں جھڑپوں کے دوران کم از کم 40 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ٹی ایل پی کا دعوی ہے کہ ان کے 10 سے زائد کارکن جاں بحق ہوئے۔جب مظاہرین اسلام آباد کی جانب بڑھنے لگے تو پنجاب رینجرز اور پانچ اضلاع کی پولیس کو مریدکے میں تعینات کر دیا گیا، جہاں خندقیں کھودی گئیں اور انہیں منتشر کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا گیا۔
مریدکے آپریشن اور پولیس و ٹی ایل پی کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے، انسانی حقوق کمیشن نے نہ صرف تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا بلکہ اس بات پر بھی کہ آپریشن کے بارے میں شفاف اور آزادانہ معلومات کی کمی ہے۔
اس بیان کے جواب میں، عظمی بخاری نے کہا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف مارچ کرنے سے باز رکھنے کی سنجیدہ کوششیں کیں، لیکن تنظیم نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے گفتگو میں کہا: ہم نے یہ آپریشن امن و امان قائم رکھنے کے لیے کیا، کیونکہ مارچ کے شرکا نے تمام اہم راستے، بشمول جی ٹی روڈ، ٹریفک کے لیے بند کر دیے تھے۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ایچ آر سی پی نے خود اپنے بیان میں ٹی ایل پی کی نفرت انگیز تقاریر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا: ہم نے کوشش کی کہ بات آپریشن تک نہ پہنچے اور یہ صورتحال پیدا نہ ہو، لیکن انتہا پسند عناصر انسانی حقوق پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب بھر میں پولیس کا مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈان جاری، 2500 سے زائد افراد زیرحراست پنجاب بھر میں پولیس کا مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈان جاری، 2500 سے زائد افراد زیرحراست کراچی:ناردرن بائی پاس پرافغان بستی میں آپریشن، 300 سے زائدغیرقانونی مکانات اور دکانیں مسمار نوجوانوں میں بے چینی،جین زی اور فوج کی خاموش حمایت ،دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتوں کی چھٹی حماس نے خود ہتھیار نہ ڈالے تو ہم طاقت کے ذریعے غیرمسلح کردیں گے؛ ٹرمپ عالمی مثبت جائزے پاکستانی معیشت میں پیشرفت کا ثبوت ہیں، وفاقی وزیر خزانہ ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید توسیع کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے آپریشن
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔