پاکستان 2026 تا 2028 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
( انور عباس)پاکستان 2026 تا 2028 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہو گیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو کونسل کے لیے بھاری اکثریت سے ووٹ ملے، یہ انتخاب انسانی حقوق کے فروغ میں پاکستان کے کردار کا اعتراف ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کی حمایت پر اظہار تشکر کرتا ہے، پاکستان TRUCE اصولوں برداشت، احترام، آفاقیت، اتفاق رائے، شراکت پر کاربند رہے گا۔
ڈیلی ویجرز کی تنخواہوں میں اضافہ
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کے لیے کام جاری رکھے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سال 2026 سے 2028 تک نئے رکن کے طور پر پاکستان کی شمولیت پر اظہار مسرت کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہونا اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤثر اور بھرپور کردار کو عکاس ہے۔
ماہرہ خان کا طویل عرصے بعد ٹی وی پر واپسی کا عندیہ
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے کونسل میں پاکستان کے بھرپور کردار کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انسانی حقوق کونسل نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔