پاکستان اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )پاکستان اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہوگیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان 2026ء تا 2028ء کی مدت کیلیے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہو گیا ہے، پاکستان کو اس انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔سینیٹر اسحاق ڈار نے تمام اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کے مضبوط مؤقف، خدمات اور عالمی انسانی حقوق کے فریم ورک میں کردار کا اعتراف ہے پاکستان عالمی برادری کے ساتھ برداشت، احترام، شمولیت، اتفاق رائے اور تعمیری شراکت کے اصولوں پر مبنی تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر انسانی حقوق کے فروغ، اقلیتوں کے تحفظ اور مساوات کے فروغ کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اقوام متحدہ نے افغان سرحد کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے: اسحاق ڈار
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے بتایا تھا کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کے چند افراد کو گرفتار کیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بڑھتے خطرات اور پاکستان کے سفارتی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ اس معاملے پر عسکری قیادت اور وزیراعظم سے بات کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے پاکستان کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم اس پر واضح کیا گیا کہ چند سو افراد کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور امن ہی واحد حل ہے، ٹی ٹی پی کو پاکستانی سرحد سے دور منتقل کیا جائے یا ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے حالیہ عرصے میں ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے، جن میں ماسکو میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی معاشی ترجیحات، علاقائی روابط، توانائی کے شعبے میں تعاون اور دیگر اہم مسائل پر مؤقف پیش کیا۔ ماسکو میں صدر پیوٹن نے ایس سی او اجلاس کے دوران شریک وفود کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔
وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے صدر سے بھی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان، دہشت گردی اور جی ایس پی پلس جیسے مختلف امور زیر بحث آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے 27 ممالک کو پاکستان اور افغانستان سے متعلق درست معلومات فراہم کی گئیں اور بتایا کہ افغانستان نے انسداد دہشت گردی کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے وعدے پورے کیے اور مثبت اقدامات اٹھائے، لیکن افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی مؤثر تعاون نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید خراب ہوئی۔
یہ بیان پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سفارتی کوششوں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔