58 سالہ ارباز خان بیٹی کے باپ بن گئے؛ نام ’’سپارہ‘‘ رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
فلم لکھاری سلیم خان کے بیٹے اور سلمان خان کے بھائی، اداکار ارباز خان کے یہاں ننھی پری کی آمد ہوئی ہے جسے انھوں نے ایک نہایت خوبصورت نام دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ارباز خان کے گھر خوشیوں نے ایک بار پھر دستک دے دی ہے۔ 58 سالہ ارباز خان دوسری بار والد بن گئے۔
ارباز خان اور ان کی دوسری اہلیہ مشہور میک اپ آرٹسٹ شورا خان کے ہاں 5 اکتوبر کو بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔
دونوں نے آج اپنی بیٹی کی پیدائش کا اعلان ایک خوبصورت انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے کیا، جس میں بیٹی کا نام بھی بتادیا۔
ارباز اور شورا نے ننھی پری کا نام سپارہ رکھا اور پوسٹ کے کیپشن میں الحمد اللہ لکھ کر اس نعمت پر رب کائنات کا شکر بھی ادا کیا۔
اس خبر کے سوشل میڈیا پر عام ہوتے ہی جوڑے کے لیے مبارک بادوں کا تانتا بندھ گیا۔ مداحوں نے بیٹی سپارہ خان کے لیے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
کچھ مداحوں نے مذاقاً لکھا کہ "اب سلیم بھائی کو دادا، اور سلمان خان کو چچا کی نئی ڈیوٹی انجام دینا ہوگی۔
آج ہی ممبئی کے ایک اسپتال کے باہر ارباز خان کو اپنی ننھی بیٹی کو بازوؤں میں اٹھائے دیکھا گیا وہ نومولد بیٹی اور اہلیہ کو گھر لے گئے۔
یاد رہے کہ ارباز خان نے دسمبر 2023 میں شورا خان سے دوسری شادی کی تھی۔ اس سے قبل ان کی پہلی شادی ملائیکہ اروڑہ سے ہوئی تھی اور دونوں کا ایک بیٹا بھی ہے۔
ملائیکہ اروڑہ کے ساتھ شادی تقریباً 20 سال چلی جس کے بعد دونوں کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔
طلاق کے بعد ملائیکہ اروڑہ کا افیئر خود سے کافی چھوٹے ارجن کپور کے ساتھ رہا جو 2024 میں ختم ہوا جس کے بعد وہ آج کل ایک ماڈل اور اداکار ڈینو وریا کے ساتھ دیکھی جاتی ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by sshura Khan (@sshurakhan)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خان کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔