وادی تیراہ میں منشیات کے کارخانے لگے ہیں، اختیار ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں منشیات کے کارخانے لگے ہیں۔
اپنے بیان میں اختیار ولی نے کہا کہ یہی پیسہ دہشت گردی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ضلع خیبر سے منشیات پورے ملک میں اسمگل ہوتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ منشیات کے دھندے میں پی ٹی آئی کے لوگ ملوث ہیں۔ منشیات کا پیسہ سرحد پار بھی جاتا ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ان کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ وہ اپنے ضلع میں منشیات کے خلاف کارروائی کریں، جس وزیراعلیٰ کے حلقے میں منشیات تیار ہو اسے استعفا دے دینا چاہیے۔
اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے منشیات کی تردید کرکے حقائق کی نفی کی، وزیراعلیٰ سے کہا کہ منشیات اسمگلنگ کے راستے بند کریں لیکن انہوں نے وزیر اطلاعات سے پریس کانفرنس کرائی کہ ایسا نہیں۔
اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ مکروہ دھندے سے کمائے جانے والے پیسے ریاست کے خلاف استعمال ہوتے ہیں، منشیات کا پیسہ گولہ باردو کی تیاری کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اختیار ولی خان میں منشیات منشیات کے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ