افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل دوبارہ شروع WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز
کوئٹہ: (آئی پی ایس) پاک افغان سرحدی کشیدگی میں کمی پر بابِ دوستی جزوی طور پر فعال کر دی گئی جس کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔
سرحد کھولنے کا مقصد صرف افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل بحال کرنا ہے جبکہ تجارتی اور عام آمدورفت تاحال معطل ہے۔
اس حوالے سے چمن پولیس کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد باب دوستی کے راستے پاکستان سے گزشتہ روز 818 افغان خاندان اپنے وطن واپس چلے گئے، افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد 4463 تھی۔
ڈپٹی کمشنر چمن نے میڈیا کو بتایا کہ افغان مہاجرین کی یہ تعداد روزانہ کے حساب سے اب تک سب سے زیادہ ہے، یکم اپریل سے آج تک ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افغان مہاجرین چمن کے راستے واپس جاچکے ہیں۔
پاک افغان بارڈر صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے گزشتہ روز کھولا گیا تھا، سرحد پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے مہاجرین کو رجسٹریشن، سکریننگ اور سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاک افغان بارڈر پر گزشتہ دنوں ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان سے ملک بدر کئے گئے اور رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افغان باشندے بھی سیکڑوں کی تعداد میں سرحد پر پھنسے ہوئے تھے۔
ضلعی انتظامیہ کے ساتھ چمن کے مقامی لوگوں نے انسانی ہمدردی کے تحت ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست کیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں، میٹرو بس سروس بھی مکمل بحال اسلام آباد میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں، میٹرو بس سروس بھی مکمل بحال پاکستان 2026 تا 2028 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں، معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں: فضل الرحمان آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آٹ لک رپورٹ جاری، پاکستان میں بیروزگاری میں کمی کی پیشگوئی غزہ کی تعمیرِنو کے لیے 70 ارب ڈالر درکار، کئی ممالک امداد کے لیے تیار ہیں: اقوام متحدہ ٹی ایل پی واقعے پرجعلی خبروں کیخلاف کارروائی شروع، فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل
پڑھیں:
سابق رکن اسمبلی نے اسلام قبول کر کے نکاح کرنیوالی بھارتی خاتون کی واپسی کیلیے درخواست دائر کر دی
لاہور:سابق رکن پنجاب اسمبلی اور سابق پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور مہندر پال سنگھ نے بھارتی خاتون سربجیت کور، جس نے گزشتہ دنوں پاکستان آکر اسلام قبول کیا اور مقامی شہری ناصر سے نکاح کر لیا تھا ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ویزا خلاف ورزی اور طے شدہ مدت سے زائد قیام پر نور بی بی کو غیر قانونی غیر ملکی قرار دے کر فوری طور پر واپس اس کے ملک انڈیا بھیجا جائے۔
درخواست کے مطابق سربجیت کور 4 نومبر 2025 کو 10 روزہ سنگل انٹری مذہبی ویزے پر سکھ یاتریوں کے گروپ کے ساتھ پاکستان آئیں جو 13 نومبر تک مخصوص زیارات ننکانہ صاحب، کرتارپور اور دیگر مذہبی مقامات تک محدود تھا۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہوں نے یاترا کے شیڈول کی پابندی نہیں کی اور مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود پاکستان میں مقیم ہیں، جو امیگریشن قوانین کے برخلاف ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں ان کے خلاف فراڈ اور دھوکہ دہی کے مقدمات زیرِ التوا ہیں، اس لیے ویزا اجراء، بارڈر کلیئرنس اور پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت متعدد قانونی سوالات پیدا کرتی ہے۔
اس نئے مقدمے سے قبل 18 نومبر کو اسی خاتون، یعنی نور بی بی، کو مبینہ ہراسانی سے روکنے کی درخواست پر بھی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہو چکی ہے۔ جسٹس فاروق حیدر نے نور بی بی اور ان کے شوہر کی درخواست پر حکم دیا تھا کہ پولیس انہیں ہراساں نہ کرے۔ درخواست گزار جوڑے نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نور بی بی مذہبی رسومات کی غرض سے پاکستان آئیں، یہاں اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے ناصر سے نکاح کیا، لیکن 8 نومبر کو پولیس نے ان کے گھر غیر قانونی چھاپہ مارا اور خاتون پر شادی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس کے پاس چھاپہ مارنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔
نور بی بی کے خلاف دائر نئی آئینی درخواست میں مہندر پال سنگھ نے مزید استدعا کی ہے کہ ایف آئی اے یہ تحقیقات کرے کہ پس منظر کی مکمل جانچ کے بغیر ویزا کس طریقے سے جاری ہوا، اور مستقبل میں مذہبی ویزوں کے قواعد کو سخت کرتے ہوئے واپسی کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے۔
اس مقدمے کی سماعت بدھ 27 نومبر 2025 کو صبح 9 بجے لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے روبرو جسٹس فاروق حیدر کے سامنے مقرر ہے۔