اس وقت لاہور کے مختلف کیمپس میں 23 افغان مہاجرین موجود ہیں۔ یہ غیر قانونی تارکین وطن ایک ہفتے سے زائد وقت سے یہاں موجود ہیں۔ ایک ماہ میں 325 افغانیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے قبل کیمپس میں ٹھہرایا گیا ہے۔ کیمپوں میں آرام دہ رہائش، 3 وقت کا کھانا اور واشں روم کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے باعث سرحد کو بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ہولڈنگ کیمپوں میں موجود افغان مہاجرین واپس نہ بھجوائے جا سکے۔ افغان مہاجرین کو ٹھہرانے کیلئے مختلف پناہ گاہوں میں 5 ہولڈنگ کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔  لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ، لاری اڈا، داتا دربار، فروٹ منڈی اور ریلوے سٹیشن پر کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں غیر قانونی رہائش پذیر افغانیوں کو گرفتار کر کے ہولڈنگ کیمپس میں رکھا جاتا ہے۔ ہولڈنگ کیمپ میں رکھنے کے بعد 2 سے 3 روز کے اندر انہیں ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔

سرحد کی بندش سے کیمپ میں موجود مہاجرین کو واپس نہ بھیجا جا سکا۔ اس وقت لاہور کے مختلف کیمپس میں 23 افغان مہاجرین موجود ہیں۔ یہ غیر قانونی تارکین وطن ایک ہفتے سے زائد وقت سے یہاں موجود ہیں۔ ایک ماہ میں 325 افغانیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے قبل کیمپس میں ٹھہرایا گیا ہے۔ کیمپوں میں آرام دہ رہائش، 3 وقت کا کھانا اور واشں روم کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جبکہ تمام کیمپوں کی سکیورٹی پر پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ سرحدی صورتحال بہتر ہونے پر مذکورہ تارکین وطن کو واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افغان مہاجرین ڈی پورٹ کر موجود ہیں کیمپس میں

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا