Express News:
2026-06-02@22:54:25 GMT

سرحدی جھڑپوں سے اسٹاک مارکیٹ میں بھونچال، 5 کھرب ڈوب گئے

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

کراچی:

آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے بغیر مذاکرات ختم ہونے سے قرض پروگرام کی اگلی قسط کے اجراء میں تاخیرکے خدشات، داخلی سطح پر غیریقینی سیاسی صورتحال اور افغانستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی جیسے عوامل سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیرکو بھی بڑی نوعیت کی مندی رہی جس سے انڈیکس کی مزید 1 لاکھ 63 ہزار، 1 لاکھ 62 ہزار، 1 لاکھ 61 ہزار، 1 لاکھ 60 ہزار 1 لاکھ 59 ہزار پوائنٹس کی 5 سطحیں بھی گرگئیں۔

مندی کے سبب 78 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 5 کھرب 33ارب 93 کروڑ 93 لاکھ 21 ہزار 926 روپے ڈوب گئے۔

کثیرالقومی کمپنیوں کی ڈی لسٹنگ، آئی ایم ایف مذاکراتی مشن کے مختلف تحفظات سے حکومت کو درپیش چیلنجز قرض پروگرام کی اگلی قسط کی منظوری میں ممکنہ تاخیر،غیرملکیوں اور انسٹیٹیوشنزکی حصص کی بڑھتی ہوئی حصص کی آف لوڈنگ سے مسلسل چھٹے سیشن میں بھی مندی برقرار رہی۔

کاروبارکے تمام دورانیے میں مارکیٹ ریڈ زون میں رہی، بینکنگ آئل اینڈ گیس سیمنٹ سمیت انڈیکس کے تقریبا تمام شعبوں میں سرمائے کے انخلا سے ایک موقع پر 5420 پوائنٹس کی مندی بھی ہوئی۔

تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر مخصوص شعبوں میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوئی، کاروبارکے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4654.

77 پوائنٹس کی کمی سے 158443.42پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

نمائندہ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق  پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی نے مالیاتی منڈیوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں پیرکو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی۔

KSE-100 انڈیکس ایک دن میں 4,654.77 پوائنٹس (2.85%) کی کمی کے ساتھ 158,443.42 پر بند ہوا۔

مندی ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی جب سرحد پار سے کیے گئے  مبینہ حملے میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے۔

JS گلوبل کے ہیڈآف ایکویٹی ریسرچ وقاص غنی کے مطابق پچھلے چھ روز میں مارکیٹ 9,500 پوائنٹس کھو چکی ہے، جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال نے بینکنگ، توانائی اور سیمنٹ جیسے اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر فروخت کوجنم دیا۔

کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے احمد شیرازکے مطابق مارکیٹ پہلے ہی کمزور معاشی اشاریوں، مانیٹری پالیسی میں ممکنہ تبدیلی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث دباؤ کا شکار تھی،جس پر حالیہ دہشتگرد حملوں اور TLP احتجاج نے جلتی پر تیل کاکام کیا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مارکیٹ کا آغاز ہی زبردست مندی کے ساتھ ہوا اور انڈیکس پورے دن دبائو میں رہا۔

بینک الحبیب 5.19 فیصد، اینگرو ہولڈنگز 3.32 فیصد اور لکی سیمنٹ سمیت کئی بڑے اداروں کے حصص قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، اگرچہ کاروباری حجم 1.36 ارب حصص رہا، مگر منفی رجحان غالب رہا۔

کے الیکٹرک سب سے زیادہ کاروبار ہونیوالا اسٹاک رہا،جس کے 197.3 ملین حصص کا لین دین ہوا۔PSX  نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر بتایاکہ کل تجارتی مالیت کا 65 فیصد حصہ شریعت کے مطابق حصص پر مشتمل تھا،جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 617.1 ملین روپے کے حصص خریدے۔

ماہرین کے مطابق سیکیورٹی صورتحال میں بہتری اور آئی ایم ایف مذاکرات میں پیش رفت ہی مارکیٹ کو استحکام کی طرف لاسکتے ہیں،بصورت دیگر آئندہ دنوں میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کاامکان ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پوائنٹس کی کے مطابق کے ساتھ

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا