سرحدی کشیدگی میں کمی کے بعد بابِ دوستی جزوی طور پر فعال، افغان مہاجرین کی واپسی دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی میں کمی کے بعد بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں بابِ دوستی کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ سرحد کھولنے کا مقصد صرف افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل بحال کرنا ہے جبکہ تجارتی اور عام آمدورفت تاحال معطل ہے۔
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کو 3 روز قبل کشیدگی کے سبب بند کر دیا گیا تھا البتہ گزشتہ روز سے افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ سرحد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے مہاجرین کی رجسٹریشن، اسکریننگ اور سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان سے اٹھنے والی دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: پاک فوج
انہوں نے کہا کہ چمن میں قائم مہاجر کیمپس میں افغان خاندانوں کے لیے عارضی شیلٹرز، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی واپسی کا عمل منظم اور محفوظ طریقے سے مکمل ہو سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بابِ دوستی پر تجارتی سرگرمیاں، امیگریشن اور پیدل آمدورفت تا حکمِ ثانی معطل رہیں گی، تاہم انتظامیہ کی کوشش ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی تجارت کو بھی بحال کر دیا جائے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین براستہ چمن افغانستان واپس بھیجے جا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کبھی آپ کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا، حافظ نعیم الرحمان کا افغانستان کو مشورہ
یاد رہے کہ بابِ دوستی کو گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جس کے باعث دو طرفہ تجارت، امیگریشن اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی تھی۔
دوسری جانب مقامی تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ چمن شہر میں اندرونی کاروبار جزوی طور پر معمول پر آچکا ہے، تاہم سرحدی بندش کے باعث ہزاروں مزدور اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بدستور متاثر ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان باب دوستی سیکیورٹی کشیدگی مہاجرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان باب دوستی سیکیورٹی کشیدگی مہاجرین افغان مہاجرین دیا گیا کر دیا
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔