’عورت کا بھیس بدل کر طالبان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں کیوں نہیں گئے‘، جاوید اختر کا تنقید کرنے والے کو سخت جواب
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
معروف شاعر، نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے حالیہ دنوں طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت اور انہیں دی جانے والی سرکاری پذیرائی پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اس بات پر شرمندہ ہیں کہ دنیا کی ایک بدترین شدت پسند تنظیم کے نمائندے کو ایک سیکولر ملک میں عزت و احترام دیا گیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ کاش تیز فہم خواتین صحافی جیسے انجنا اوم کشیپ، چترا، نویکا اور روبیکا اس طالبان رہنما کی پریس کانفرنس میں موجود ہوتیں،جو ہمارے سیکولر ملک کا سرکاری مہمان تھا، مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔
How I wish that the sharp witted women journalists like Anjana Om Kashyap , Chitra , Navika and Rubika could attend the first press conference of that woman hater Talibani who was the official guest of our secular country but Alas …
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 14, 2025
ان کی اس رائے پر ایک سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا سر! آپ ایک فنکار ہیں، آپ خود عورت کا بھیس بدل کر اس پریس کانفرنس میں کیوں نہیں چلے گئے؟
جاوید اختر نے اس پر سخت لہجے میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھائی، سچ کہوں تو مجھے تم پر افسوس ہو رہا ہے۔ تم اتنے کم فہم کیوں پیدا ہوئے؟ قدرت نے تم پر انصاف نہیں کیا۔ خیر، کم از کم تم اپنا نام بتا سکتے ہو، خود کھا سکتے ہو، کپڑے بدل سکتے ہو اور سڑک پار کر سکتے ہو۔ تمہیں اس پر شکر گزار ہونا چاہیے۔
Brother , honestly I am feeing sorry for you .
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 14, 2025
واضح رہے کہ یہ بھارت میں طالبان کے کسی اعلیٰ رہنما کا 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد پہلا سرکاری دورہ تھا۔ امیر خان متقی چھ روزہ قیام پر نئی دہلی پہنچے۔ ان کے سفر کی اجازت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طالبان پابندی کمیٹی نے خصوصی استثنا دے کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’انتخاب نہ کریں تو بھی جہنم میں جائیں گے‘، جاوید اختر کے بیان پر پاکستانی اداکار پھٹ پڑے
نئی دہلی میں امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی غیر موجودگی پر شدید تنازع بھی کھڑا ہوا تھا۔ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اسے ناقابلِ قبول اور خواتین کی توہین قرار دیا، جب کہ متعدد صحافتی تنظیموں نے بھی افغان وزیرِ خارجہ پر تنقید کی۔
بعد ازاں، تنازع کے بڑھنے پر امیر خان متقی نے ایک اور پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو بھی مدعو کیا اور وضاحٹ دی کہ خواتین صحافیوں کو باہر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، یہ محض تکنیکی مسئلہ تھا۔ فہرست مختصر وقت میں تیار کی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ جاوید اختر جاوید اختر تنقید طالبان وزیر خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ جاوید اختر جاوید اختر تنقید طالبان وزیر خارجہ پریس کانفرنس میں جاوید اختر سکتے ہو
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔