بلوچستان کے ضلع چمن میں واقع پاک افغان سرحد بابِ دوستی پر افغان مہاجرین کے انخلا کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

تاہم اس سرحدی مقام سے دوسرے روز بھی عام آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔

حکام کے مطابق افغان شہریوں کو وطن واپسی کی اجازت دی گئی ہے، البتہ دوطرفہ تجارت، امیگریشن اور پیدل آمدورفت بدستور بند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: باقی ماندہ افغان باشندوں کو بھی پاکستان چھوڑنے کا حکم، چمن بارڈر پر بے پناہ رش

ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ باب دوستی کے راستے باضابطہ آمدورفت تاحال معطل ہے، تاہم افغان خاندانوں کے لیے واپسی کا عمل صبح سے دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

The Pak-Afghan authorities mutually consented on Friday to reopen the Bab-e-Dosti gate at the Chaman border for pedestrians from both sides for seven days.

They mutullay consented to reopen the Bab-e-Dosti gate at the Chaman border for pedestrians from both sides for seven days. pic.twitter.com/uJwsvkfsPm

— Reporterly (@Reporterlyaf) August 21, 2020

’انتظامیہ نے سرحدی علاقے میں عارضی رہائش، خوراک، پینے کے پانی اور طبی سہولیات کا انتظام کر رکھا ہے تاکہ واپس جانے والے خاندانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ بابِ دوستی کو گزشتہ روز ہر قسم کی دوطرفہ نقل و حرکت کے لیے بند کیا گیا تھا، مگر اب صرف مہاجرین کو انخلا کی اجازت دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:

امیگریشن سسٹم، ویزا اور پاسپورٹ کے تحت آمدورفت معطل ہے جبکہ پاک افغان دوطرفہ بارڈر ٹریڈ بھی مکمل طور پر رکی ہوئی ہے۔

سرحد کے دونوں جانب درجنوں تجارتی گاڑیاں اور سامان سے بھرے ٹرک پھنسے ہوئے ہیں جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ہے۔

ڈپٹی کمشنر چمن کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:پاک افغان تعلقات میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟

’انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ ہے اور سرحد کے اطراف تمام علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔‘

ڈپٹی کمشنر حبیب بنگلزئی نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پرلانا اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس بھیجے جا چکے ہیں، جب کہ انخلا کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔

مزید پڑھیں: چین کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

دوسری جانب مقامی افراد کے مطابق سرحدی کشیدگی کے باوجود چمن شہر اور گردونواح میں حالات نسبتاً پُرامن ہیں۔

بازار کھلے ہیں، ٹرانسپورٹ جزوی طور پر بحال ہے اور شہری حالات کا بغور مشاہدہ کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان شہریوں باب دوستی بلوچستان پاک افغان سرحد حبیب بنگلزئی ڈپٹی کمشنر ضلع چمن کوئٹہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان شہریوں باب دوستی بلوچستان پاک افغان سرحد حبیب بنگلزئی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ڈپٹی کمشنر پاک افغان کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی