ایک معمولی سا خاندانی جنازہ مشرقی چین کی ایک عورت کے لیے زندگی بدل دینے والا لمحہ بن گیا، جب اس نے ایک اجنبی خاتون کو سوگ کی حالت میں دیکھا، جو خاندان کے فرد کی طرح برتاؤ کر رہی تھی۔

چین کے صوبہ شینڈونگ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو اپنے شوہر کے خفیہ ازدواجی تعلق کا انکشاف اس وقت ہوا جب وہ ایک خاندانی جنازے میں شریک تھیں۔ اس حیران کن واقعے کے بعد عدالت نے شوہر کو دوہری شادی (بگیمی) کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنا دی۔

یہ بھی پڑھیں: طلاق مبارک ہو، بھارتی شخص کا دودھ سے غسل اور کیک کاٹ کر جشن، ویڈیو وائرل

واقعہ جون 2022 میں پیش آیا جب خاتون اپنے سسر کے جنازے میں شریک تھیں۔ وہاں انہوں نے ایک اجنبی خاتون کو روایتی سوگ کے لباس میں پایا جو مرحوم کے قریب کھڑی ہو کر رنج و غم کا اظہار کر رہی تھی۔ وہ خود کو ’بہو‘ کہہ رہی تھی اور تابوت کے ساتھ کھڑے ہو کر روتی جا رہی تھی، جیسے وہ خاندان کا حصہ ہو۔

جب خاتون جس کا نام شانگ تھا نے اپنے شوہر وانگ سے اس اجنبی خاتون کے بارے میں استفسار کیا تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔ اس پر شانگ نے معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نام رکھنے پر اختلاف: ماں باپ طلاق لینے پر تل گئے، بے نام بچہ دربدر

عدالتی کارروائی کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ وانگ گزشتہ 16 برس سے ’وین‘ نامی ایک خاتون کے ساتھ خفیہ تعلقات میں تھا۔ یہ تعلق شانگ سے شادی کے صرف تین سال بعد شروع ہوا تھا۔ وین سے اس کے ایک بیٹا بھی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وانگ اکثر اپنی بیوی کو طویل دوروں کا بہانہ بنا کر دوسرے شہر میں وین کے ساتھ رہتا اور ان کے بیٹے کی پرورش کرتا تھا۔

پڑوسیوں اور گواہوں کے بیانات سے واضح ہوا کہ وانگ اور وین ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہتے تھے، اگرچہ ان کی قانونی شادی نہیں ہوئی تھی۔ ایک موقع پر وانگ نے وین کی میڈیکل سرجری کے لیے رضامندی کے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے خود کو اس کا شوہر ظاہر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خاتون شادی کے 4 دن بعد ہی طلاق لینے پر کیوں ضد کرنے لگی؟

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وانگ نے اگرچہ وین سے قانونی شادی نہیں کی، لیکن اس کے ساتھ ایک عملی ازدواجی تعلق قائم کر رکھا تھا، جو کہ چینی قوانین کے تحت بگیمی یعنی دوہری شادی کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت نے وانگ کو ایک سال قید کی سزا سنائی، جس کے خلاف اس نے اپیل دائر کی، تاہم اعلیٰ عدالت نے اس اپیل کو مسترد کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عدالت نے رہی تھی کے ساتھ کہ وانگ

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف