کراچی : کینٹ سٹیشن کیفے بوگی میں آگ بھڑک اٹھی ، 2 بوگیاں جل کر راکھ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
دُرِ شہوار : کینٹ سٹیشن پر بوگی کینٹین میں آتشزدگی کے نتیجے میں دو بوگیاں مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگئیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں کینٹ سٹیشن پر کھڑی کیفے بوگی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی, واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ کی ایک گاڑی موقع پر روانہ کیا گیا، جس نے آگ پر قابو پا لیا.
حکام نے بتایا کہ آتشزدگی میں کینٹین کی دو بوگیاں مکمل طور پر جل گئیں جبکہ مزید دو بوگیوں کو نقصان سے بچا لیا گیا۔
ڈیلی ویجرز کی تنخواہوں میں اضافہ
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ کینٹین چار بوگیوں پر مشتمل تھی اور تقریباً ایک سال سے غیر فعال تھی۔
ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔