فیملی نے شفقت چیمہ کی بیماری کیوں چھپا کر رکھی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار اور پروڈیوسرشفقت چیمہ کے اہل خانہ نےواضح کیا کہ لوگوں کے ذہنوں میں والد کی مضبوط شبیہ برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے ان کی بیماری کو عوام اور میڈیا سے چھپایا۔
زیادہ تر منفی کردارنبھانے والے شفقت چیمہ حال ہی میں ایک مشکل دور سے گزرے۔ اداکارگزشتہ سال اسٹروک کی وجہ سے معذوری کا شکار ہو گئے تھے، مگران کی صحت کی صورتحال کو میڈیا سے پوشیدہ رکھا گیا۔
اب شفقت چیمہ کے بیٹے نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے والد کی بیماری کو کیوں عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا؟
ان کے بیٹے کے مطابق، ’ہمارے والد ہمارے لیے سب کچھ ہیں۔ جب وہ بیمار ہوئے تو میری ایک بہن مانچسٹر سے اور دوسری امریکہ سے پہلی پروازوں کے ذریعے آئیں۔ انہوں نے بھی ہمیں کہا کہ والد کو میڈیا کے سامنے نہ لائیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ، ’ہمارا مقصد یہ تھا کہ لوگ انہیں ایک شیر کی طرح دیکھتے ہیں اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ان کے مداح انہیں کمزور حالت میں دیکھیں، کیونکہ ان کے ذہن میں والد کی ایک مضبوط انسان کے روپ کی شبیہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ، کسی بھی انڈسٹری سے تعلق رکھے والے فرد کو ہمیشہ اپنے خاندان کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ مشکل وقت میں یہی لوگ آپ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ اپنے خاندان کو مضبوط بنائیں، یہی اصل سرمایہ ہے۔ ہم نے والد کو اتنا پیار دیا کہ وہ سب کچھ بھول گئے۔
شفقت چیمہ کے بیٹے نے اس موقع پر خاص طور پر اداکارہ ریما کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں ان کے والد کی خبر گیری کی۔ انہوں نے کہا ریما ہی وہ شخص تھیں جو واقعی ہمارے ساتھ کھڑی رہیں۔ وہ اپنے شوہرجو کہ ہارٹ اسپیشلسٹ بھی ہیں کے ساتھ آئیں اورروزانہ صبح سویرے والد کی خبر لینے کے لیے فون کرتی تھیں۔
شفقت چیمہ نے تقریباً 35 سال فلمی صنعت میں کام کیا اور اپنی یادگار منفی کرداروں کی وجہ سے لاکھوں مداح بنائے۔ ان کی مشہور فلموں میں ”کالے چور“، ”گاڈ فادر“، ”منڈا بگرا جائے“، ”چوڑیاں“ اور ”ہاتھی میرا ساتھی“ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے کئی معروف پاکستانی ڈراموں ،”خدا اور محبت“، ”اشک“ اور ”ہیر رانجھا“ میں بھی اداکاری کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شفقت چیمہ انہوں نے والد کی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔