پی ٹی آئی نے اپنا مقبولیت کا قلعہ پختونخوا اپنے ہاتھوں کمزور کردیا، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
لاہور:
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں اپنی مقبولیت کا قلعہ خود ہی کمزور کر لیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی نورا کشتی کو عوامی سطح پر بیک برنر پر ڈال دیا گیا ہے۔ لیاقت بلوچ نے سیلاب متاثرین کی حالتِ زار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں متاثرین کی بحالی کے اقدامات کو نظر انداز کر رہی ہیں۔
انہوں نے پنجاب حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس کی گندم خریداری پالیسی سے کاشتکار مطمئن نہیں ہیں، جس سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
بھارتی سازشوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ انڈیا کے معمول کے اقدامات کا مقابلہ غیر معمولی اندرونی استحکام سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم بھارت کے ہر جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دے گی۔
سندھ میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ سندھ حکومت ان واقعات کی ذمے دار ہے اور اسے اس حوالے سے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔