مریدکے: پولیس نے ٹی ایل پی لانگ مارچ کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سیکیورٹی اداروں نے کرین پارٹی کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے تمام کارکنان کو منتشر کرکے جی ٹی روڈ کو خالی کروا کے شاہراہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف 10 التوبر کو تحریک لیبک پاکستان نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف الاقصیٰ مارچ شروع کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی نے کیسے پولیس اہلکار اغوا کیے، گاڑیاں اور سرکاری اسلحہ چھینا؟
مارچ شروع ہونے سے قبل ہی پنجاب پولیس اور تحریک لیبک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی رہیں۔ ٹی ایل پی کے مطابق اس دوران ان کے لاہور میں ہی 2 کارکنان جان بحق ہوگئے اور تقریباً 80 زخمی ہوئے جو لاہور کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
پولیس کی بھادی نفری جمعہ کے روز تحریک لیبک پاکستان کے دفتر کے باہر تعینات رہی۔
حکام کا کہنا کہ تحریک لیبک پاکستان کو مارچ کرنے کی اجازت نہیں اس لیے ہم ان کو نہیں نکلنے دیں گے لیکن جمعہ کی نماز کے بعد مارچ لاہور سے روانہ ہوا۔
ٹی ایل پی کارکنان کی کثیر تعداد اس مارچ میں شریک تھی۔ مارچ ایک رات شاہدرہ روکا پھر اگلی صبح روانہ ہوکر مریدکے پہنچا جہاں ٹی ایل پی کے حکومت کے ساتھ مذکرات چل رہے تھے۔
ٹی ایل پی کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے مطابق ان کے کچھ لوگ مذکرات کے لیے گئے مگر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ حافظ سعد رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس ہمارے کارکنان کو مار رہی اس کو روکا جائے۔
ان کے خطاب کے بعد اسٹریٹ لائٹس بند کر دی گئیں اور رات گئے اچانک پنجاب پولیس نے آپریشن شروع کر دیا۔
پنجاب پولیس کا مؤقفپنجاب پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ جب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی شروع کی گئی تو تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا۔
مزید پڑھے: مریدکے میں تصادم کے بعد ٹی ایل پی مظاہرین منتشر
بعد ازاں انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی جان کے دفاع میں محدود کارروائی کرنی پڑی۔
اس دوران ایک ایس ایچ او شہید جبکہ پولیس اور رینجرز کے 48 اہلکار زخمی ہوئے جن میں 17 اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق ٹی ایل پی مظاہرین کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 3 کارکنان اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوگیا جبکہ 8 شہری زخمی ہوئے جبکہ 40 سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی گئی۔
متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ آنسو گیس کی شیلنگ سے متاثر اور زخمی ہونے والوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مقامی افراد کو جی ٹی روڈ کی طرف بڑھنے سے بھی روک دیا گیا۔
پولیس تمام شہدا کی لاشوں اور زخمیوں کو اپنے ساتھ لے گئی ہے۔
لاہور بار کا احتجاجمریدکے پولیس آپریشن کے خلاف ٹی ایل پی کے وکلا نے ایوان عدل کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔
وکلا نے سول سیکریٹریٹ سے لے کر پی ایم جی چوک تک ٹریفک بند کر دی اور حکومت مخالف نعرے بازی کی جا رہی ہے۔
پولیس کے دعوے کے مطابق ٹی ایل پی کے وکلا نے ایوان عدل کے باہر پولیس پر تشدد کیا۔ وکلا نے پولیس اہلکاروں کو دیکھتے ہی گالیاں اور تھپڑ مارنے شروع کر دیے۔
لاہور بار نے مریدکے پولیس آپریشن کے خلاف ماتحت عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے 11 بجے کے بعد ان وکلا کو عدالتوں میں پیش نہ ہونے کی اپیل کر دی۔
مزید پڑھیں: ٹی ایل پی احتجاج سے نظامِ زندگی درہم برہم، سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
لاہور بار نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایل پی کے گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے، ٹی ایل پی کے زخمیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں اور ٹی ایل پی کے شہید ہونے والے کارکنوں پر فائرنگ کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
لاہور میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث سڑکیں اور موٹروے بند ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حافظ سعد رضوی کہاں ہیں؟پولیس ذرائع کے مطابق حافظ سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مریدکے آپریشن مکمل کیا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کے بعد کون سا احتجاج؟ خواجہ آصف کی ٹی ایل پی پر تنقید
سوشل میڈیا پر حافظ سعد رضوی کے چھوٹے بھائی حافظ انس رضوی کی وفات کے حوالے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحریک لبیک پاکستان ٹی ایل پی حافظ سعد رضوی گرفتار مریدکے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک لبیک پاکستان ٹی ایل پی حافظ سعد رضوی گرفتار مریدکے حافظ سعد رضوی ٹی ایل پی کے پنجاب پولیس تحریک لیبک زخمی ہوئے کے مطابق کے خلاف وکلا نے کے بعد کر لیا
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔