data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برسلز: بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ملک گیر ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے جب کہ ہزاروں مظاہرین نے حکومت کی کفایت شعاری پالیسیوں اور مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس  کے مطابق ایک لاکھ سے زائد مظاہرین مختلف مقامات پر جمع ہوئے، جس کے نتیجے میں برسلز کا بیشتر حصہ مفلوج ہو گیا، قومی ہڑتال کے دوران ہوائی سفر، پبلک ٹرانسپورٹ، اسکولوں اور سرکاری دفاتر میں شدید خلل پڑا۔

برسلز ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق ہڑتال کے باعث تمام روانگی کی پروازیں اور نصف سے زائد آمد کی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، عام دنوں میں مصروف رہنے والا روانگی ہال ویران پڑا رہا۔

 اعداد و شمار کے مطابق 48 ہزار مسافر متاثر ہوئے، جن میں سے 33 ہزار کو روانہ ہونا تھا جبکہ 15 ہزار برسلز پہنچنے والے مسافر تھے۔ صرف 17 ہزار مسافروں پر مشتمل چند پروازوں کو اترنے کی اجازت ملی۔

یہ رواں سال کا چھٹا موقع ہے جب برسلز ایئرپورٹ صنعتی احتجاج کے سبب متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2.

5 لاکھ سے زائد مسافر متاثر ہو چکے ہیں۔

ہڑتال کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ سروسز بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ شہر میں صرف محدود میٹرو، ٹرام اور بس لائنیں ہی چل سکیں۔ فلینڈرز (De Lijn) اور والونیا (TEC) کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس بھی معطل رہے۔

والونیا کے علاقے میں تقریباً 64 فیصد شیڈول شدہ روٹس منسوخ کر دیے گئے، جبکہ لیژ-ورویئرز نیٹ ورک خاص طور پر متاثر ہوا۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب برسلز کے مرکزی علاقے کے متعدد سرنگیں،  جن میں اینی کورڈی، بوٹانیک اور روژیر ٹنلز شامل ہیں،  ایک معمولی آگ لگنے کے باعث عارضی طور پر بند کر دی گئیں، جس سے ٹریفک جام مزید بڑھ گیا۔

یہ ملک گیر احتجاج ٹریڈ یونینز کی جانب سے حکومت کی کفایت شعاری، اجرتوں کی پالیسی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف بلایا گیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں نے متوسط اور محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، لہٰذا اجرتوں میں فوری اضافے اور عوام دوست اقتصادی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہڑتال کے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود