نیٹ میٹرنگ کے 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے سے نیشنل گرڈ متاثر ہوسکتی ہے، پاور ڈویژن کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک میں نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، تاہم اس تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداوار نے سسٹم کے استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری پاور نے بتایا کہ ملک میں سولر انرجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کی پیداوار ایک نئے انقلاب کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی بجلی کا حجم اب 6 ہزار میگاواٹ تک جا پہنچا ہے جب کہ آف گرڈ سولر کی صلاحیت بھی 12 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا تخمینہ جدید سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے لگایا گیا ہے۔
سیکرٹری پاور نے خبردار کیا کہ نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے قومی گرڈ کے استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرڈ سسٹم سے پیدا ہونے والی بجلی اور نیٹ میٹرنگ سے حاصل شدہ توانائی کا براہ راست موازنہ ممکن نہیں کیونکہ گرڈ کی بجلی میں 14 روپے کیپسٹی چارجز اور 9 روپے ٹیکسز شامل ہیں، جب کہ نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی بجلی لاگت کے لحاظ سے کہیں زیادہ سستی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو لوڈشیڈنگ سے مکمل طور پر نجات دلایا جائے اور توانائی کے تمام ذرائع کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ سسٹم پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ کے ہزار میگاواٹ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔