لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز نے پاکپتن شریف میں الیکٹرک بس پراجیکٹ کی تقریب سے خطاب کیا اور اہم اعلانات کیے۔ وزیراعلیٰ نے اگلے سال مزید 400 الیکٹرک بسیں لانے‘ دسمبر تک پہلے فیز میں 1100 بسیں چلانے‘ ہر گاؤں میں 25 کلومیٹر روڈز کی تعمیر و مرمت اور کسانوں کیلئے ڈی اے پی کھاد پر تاریخی سبسڈی دینے کا اعلان بھی کیا۔ ڈپٹی کمشنرز کو الیکٹرک بسوں کیلئے تین ماہ میں بس سٹاپ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ نئی سیوریج لائن، ڈرینج لائن اور انڈر واٹر سٹوریج ٹینک بنانے کا اعلان کیا۔ پینے کے صاف پانی کے لئے دور دراز علاقوں میں واٹر ٹینکرز بھیجنے اور پانی کی قلت کی شکار آبادیوں میں صاف پانی گھر گھر پہچانے‘ چھوٹے بڑے شہروں کے لئے بیوٹی فکیشن پلان کی جلد از جلد تکمیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مریم نواز نے پاکپتن شریف کے شہر کا الیکٹرک بس میں بیٹھ کرڈیڑھ کلو تک سفر کیا۔ پاکپتن شریف شہر پہلے کی نسبت زیادہ صاف اور کلین نظر آیا۔ شہر میں ایک طرف سبزیوں اور پھلوں کی ریڑھیاں منظم طریقے سے لگائی گئی تھیں۔ وزیراعلیٰٖ  نے کہا مجھے پاکپتن میں ڈویلپمنٹ کے کام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ پنجاب کے 38 اضلاع میں ترقی یکساں طور پر نہیں ہوگی توسمجھا جائے گا کہ پنجاب ترقی یافتہ نہیں ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کو خود ترتیب دیکر صوبے بھر میں لانچ کیا ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام ہے۔ پورے صوبے میں کسی تفریق کے بغیر سب شہروں اور تحصیلوں میں ویسٹ مینجمنٹ مشینری دے رہے ہیں۔ بیٹیاں ہمیشہ گھروں کو ناصرف صاف کرتی ہیں بلکہ چمکاتی اور سجاتی بھی ہیں۔ کوئی سوچ سکتا تھا کہ میانوالی، وزیر آباد، ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد، ڈی جی خان اور پاکپتن میں الیکٹرک بسیں آئیں گی۔ چھوٹے شہروں میں سرکاری طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ پنجاب میں زیادہ تر مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کام ہوتے رہے۔ بعض شہروں میں ترقیاتی کام سست رہے، ا سی لیے اب ترقیاتی کاموں کا آغاز ان چھوٹے شہروں سے ہوگا۔ الیکٹرک بس پراجیکٹ لوگوں کے دلوں میں گھر کررہا ہے۔ طلبہ کے لئے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں جانے کے لئے الیکٹرک بس ٹکٹ فری ہے۔ اب ترقی بڑے شہروں سے نکل کر چھوٹے شہروں میں جا رہی ہے۔ چھوٹے شہروں میں الیکٹرک بس چلنے سے لوگوں میں خوشی کا سماں ہے۔  پورے پنجاب میں ڈرینج، ڈسپوزل اور ناقص صفائی ستھرائی کے عمل کو بہتر کررہے ہیں۔ واسا صرف لاہور اور چند بڑے شہروں تک محدود تھی۔ 25 شہروں میں واسا کے دفاتر قائم کر دیئے ہیں۔ آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں 90ہزار گھر بن رہے ہیں۔ پوری کوشش کریں گے کہ پانچ سال کے اندر پانچ لاکھ گھر بنا کر دیں۔ گھر صرف لاہور نہیں بلکہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں بن رہے ہیں۔  14 لاکھ مزدورں اور ورکرز کو تین ہزار روپے ماہانہ مل رہے ہیں۔ مری اور سرگودھا میں نواز شریف کارڈیالوجی سنٹر نے بن کر کام شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ حکومت نے سرکاری ہسپتالوں سے بھی مفت ادویات بند کر دی تھیں۔ ہیپاٹائٹس، دل کے امراض، ٹی بی اور انسولین مفت گھروں تک پہنچائی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا حلف لینے سے پہلے پنجاب میں جرائم کی شرح بلند ترین تھی۔ گزشتہ حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے پنجاب جرائم کا گڑھ بن چکا تھا۔ درخواستیں آتی تھیں کہ مزدوروں سے تنخواہیں لوٹ لی جاتی ہیں۔ وسائل کم بھی ہوں تو اگر عوام کی خدمت کا جذبہ ہو تو اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔ کسانوں کو بلا سود قرض اور مشینری فراہم کررہے ہیں۔ ہمت کارڈ، مینارٹی کارڈ پورے پنجاب میں لانچ کیا ہے۔ پنجاب کے 27 اضلاع سیلاب کی زد میں آئے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا لیکن حکومت کی بروقت اقدامات سے انسانی جانوں کو بچایا گیا۔ ن، م اور ش سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہیں۔ چالیس سال سے مخالفین ہمیں توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مریم نواز شریف نے بھکر میں ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 4نوجوانوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اورکزئی میں 19 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا کہ وطن سے محبت کی داستان رقم کرنے والے شہداء قوم کے سر کا تاج ہیں۔کاشتکاروں سے گندم کی فصل 3500 روپے فی من خریدنے کے لئے حکومت پنجاب اور پرائیویٹ سیکٹر میں معاہدہ طے پاگیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیرصدارت گندم سے متعلق اہم اجلاس میں گندم کی کاشت کے حوالے سے محکمہ زراعت نے بریفنگ دی۔ آئندہ سال گندم کی خریداری کا جامع پلان تیار کیا ہے۔ پنجاب میں گندم کی کمی نہیں، وافر ذخائر موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کاشتکار ہمارے بھائی ہیں، ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گندم کے کاشتکاروں کو ایک ہزار مفت ٹریکٹر دئیے۔ گندم کے کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے اربوں کے زرعی مداخل فراہم کئے گئے۔ پنجاب میں ہر قسم کی کھاد کنٹرول ریٹ پر وافر موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: چھوٹے شہروں الیکٹرک بس مریم نواز گندم کی رہے ہیں بڑے شہر کے لئے کیا ہے

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف