بھارت ’’نئے معمول‘‘ کی بات کرے گا تو جواب نئے اور موثر عسکری ردعمل سے دینگے: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت اگر کسی ‘‘نئے معمول’’ کی بات کرے گا تو پاکستان اس کا جواب ایک نئے اور موثر عسکری ردعمل سے دے گا۔ (آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) کی زیرِ صدارت 272ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ہوئی جس میں پاک فوج نے دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اجلاس کا آغاز حالیہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے جوانوں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی سے ہوا۔ فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے عزم، حوصلے اور قربانیوں کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے حالیہ سیلاب کے دوران سول انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کیے گئے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں فوج کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ فورم نے جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، ابھرتے ہوئے خطرات اور آپریشنل تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاک فوج وطنِ عزیز کے دشمنوں کے عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی، جرائم اور سیاسی سرپرستی کے مابین موجود گٹھ جوڑ جو ریاست اور عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے، کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فورم نے بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز اور غیر ذمہ درانہ بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگی جنون کو ہوا دینا اس کی پرانی روش ہے، جس کا مقصد اندرونی سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ بھارتی جنگی بیان بازی خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت اگر کسی ‘‘نئے معمول کی بات کرے گا تو پاکستان اس کا جواب ایک نئے اور مؤثر عسکری ردعمل سے دے گا۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں جیسے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے نیٹ ورکس کو ہر سطح پر ختم کرنے کے لیے جامع انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھی جائے گی۔ اجلاس میں پاکستان کی حالیہ اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کو سراہا گیا اور عالمی و علاقائی امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فورم نے پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی سٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ کا خیرمقدم کیا، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی حقِ خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا۔ اجلاس نے فلسطینی عوام کے حق میں غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ فورم نے دو ریاستی حل کی حمایت دہراتے ہوئے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست، 1967 کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے اصولی مؤقف پر پاکستان قائم ہے۔ فیلڈ مارشل نے تمام کمانڈرز کو ہدایت دی کہ وہ آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، جسمانی فٹنس، اختراعات اور تیز ردعمل کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنائیں۔ فیلڈ مارشل نے یقین ظاہر کیا کہ پاک فوج روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل نے کا اعادہ کیا کہ بھارت پاک فوج فورم نے کے لیے عزم کا کیا کہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔