پنجاب حکومت کا مستحق جوڑوں کے لیے انوکھا تحفہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت کی جانب سے ’’دھی رانی پروگرام‘‘ کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اجتماعی شادی میں شریک ہر مستحق جوڑے کواے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے 2 لاکھ روپے کی مالی سلامی دی گئی۔
لاہور میں منعقدہ ایک باوقار تقریب میں 130 بیٹیوں کی اجتماعی شادیاں انجام دی گئیں، جن میں دلہنوں اور دولہوں کے اہلخانہ کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور سرکاری شخصیات نے بھی شرکت کی۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے یہ مالی امداد نہ صرف شادی کے اخراجات میں سہولت فراہم کرتی ہے، بلکہ اسے بیٹیوں کی خودمختاری اور باعزت زندگی کی جانب ایک مثبت قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ سماجی بہبود **سہیل شوکت بٹ** نے کہا کہ *”دھی رانی پروگرام مستحق گھرانوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ایک فلاحی ریاست کے وژن کے تحت عوامی فلاح کے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے اور اجتماعی شادیوں جیسے پروگرام اس کا عملی ثبوت ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ اس پروگرام کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں اب تک3 ہزار سے زائد بیٹیوں کی شادیاں کرائی جا چکی ہیں، جبکہ رواں سال کے دوران 5 ہزار سے زائد مستحق بیٹیوں کی شادیاں کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ ’’دھی رانی پروگرام‘‘ نہ صرف مالی معاونت فراہم کرتا ہے، بلکہ خواتین کی عزت نفس، خودداری، اور معاشرتی تحفظ کے فروغ کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ اقدام اس بات کا عملی اظہار ہے کہ حکومت غریب اور مستحق طبقات کو تنہا نہیں چھوڑ رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیٹیوں کی
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔