لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اکتوبر2025ء) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گنڈا پور کی وزارتِ اعلی دو گھریلو خواتین کی لڑائی کی نذر ہوگئی، جبکہ خیبرپختونخوا کا نیا وزیر اعلی پرچی نہیں بلکہ فرشی ہے جو سلام کر کر کے وزیر اعلی بنا ہے،عثمان بزدار کو بیگم کے کہنے پر لگایا گیا جبکہ گنڈا پور کو باجی کے کہنے پر ہٹایا گیا، جو اس جماعت کی سیاسی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے،کے پی میں آج جعلی الیکشن ہوا، ایک وزیراعلی کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا اور دوسرا منتخب کرلیا گیا، سہیل آفریدی نے صرف بڑھکیں ماریں، صوبے کی ترقی پر کوئی بات نہیں کی،عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ پنجاب کے ہر ترقیاتی منصوبے میں جنوبی پنجاب کو برابر کا حصہ دیا جاتا ہے اور مریم نواز کے نزدیک نہ کوئی وسطی ہے نہ جنوبی پنجاب، بلکہ صرف ایک پنجاب ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے تقریبا مکمل کر لیا ہے اور بہت جلد متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد کی فراہمی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں بحالی کے کام تیزی سے جاری ہیں جبکہ صوبے میں ستھرا پنجاب" فلیگ شپ پروگرام بھرپور انداز میں چل رہا ہے۔

بچوں کی صحت میں بہتری کے لیے جنوبی پنجاب میں میل پروگرام بھی مثر انداز میں جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں اب تک 4014افراد کے CNICاور 78,769جانور رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ 787.

698ملین روپے کے قرضے منظور کیے گئے۔ رحیم یار خان 4500رجسٹریشن اور 121.5ملین کے قرضوں کے ساتھ سرفہرست رہا۔ بہاولپور و بہاولنگر نے 10,443جانور رجسٹر کر کے 281.961ملین روپے کے قرضے حاصل کیے۔

ویہاری میں 313 CNICاور 29,174جانوروں کی رجسٹریشن کے تحت 63.666ملین روپے کے قرضے دیے گئے۔ چولستان میں 1295رجسٹریشنز اور 12.852ملین کے قرضے فراہم کیے گئے جبکہ دیگر اضلاع میں بھی یہ عمل بھرپور انداز میں جاری ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام (فیز ون) 2024-25کے تحت صوبے بھر میں اب تک 9,464ٹریکٹرز فراہم کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 3,849ٹریکٹرز جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کو ملے۔

آئندہ مرحلے (2025-26)میں 9,500ہائی پاور ٹریکٹرز تقسیم کیے جائیں گے، جن میں 3,865کا حصہ جنوبی پنجاب کو دیا جائے گا۔ اسی طرح کسان کارڈ پروگرام کے تحت پنجاب میں 660,552کارڈز فعال کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 292,809کارڈز جنوبی پنجاب کے کسانوں کو جاری کیے گئے ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب میں مجموعی طور پر 87,425گھروں کے لیے قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔

ان میں سے 60,054گھر زیر تعمیر ہیں جبکہ 20,564گھر مکمل ہو چکے ہیں، جو جنوبی پنجاب میں عوام کو اپنا گھر فراہم کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت جب بارڈر پر حالات کشیدہ ہیں اور افغانستان سے دراندازی کی کوششیں ہو رہی ہیں، کسی بھی صوبے پر سیاسی چڑھائیاں انتہائی غیر ذمے دارانہ عمل ہے۔ پاکستان کے اندر کوئی حالات خراب کرنے یا دہشت گردی کے لیے دوسرے ملک کی سرزمین استعمال کرے، یہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گاآخر میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، سڑکیں بند کرنا اور عوام کو تکلیف دینا ناقابل قبول ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر اعلی نے کہا کہ انہوں نے چکے ہیں کے قرضے کیے گئے کے لیے کے تحت

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا