پنجاب حکومت کا 12 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) پنجاب حکومت نے شہر کے اندرون اور متوسط علاقوں کی ترقی و بحالی کے لیے 12 ارب روپے سے زائد لاگت کا بڑا ترقیاتی پیکیج منظور کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں متعدد شاہراہوں کی بحالی، بیوٹیفکیشن اور ری ماڈلنگ کے منصوبوں کی اصولی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ریلوے اسٹیشن اور اس کے اطراف کی سڑکوں کی ازسرنو تعمیر و بحالی کے ساتھ چوکوں اور چوراہوں کی خوبصورتی کے منصوبے منظور کیے گئے۔ ریلوے اسٹیشن سے آزادی انٹرچینج تک سڑک کی تعمیر و بحالی کا پراجیکٹ دس ماہ میں مکمل ہوگا جس پر ایک ارب بیس کروڑ روپے لاگت آئے گی۔اسی طرح مصری شاہ اور گردونواح کی سڑکوں کی مرمت و بہتری کا منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا جائے گا، جس پر چھ ارب پچانوے کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ داتا دربار تا بھاٹی چوک ری ماڈلنگ منصوبے کے لیے ایک ارب اسی کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی تکمیل کی مدت اٹھارہ ماہ مقرر کی گئی ہے۔آؤٹ فال روڈ، ریٹی گن روڈ اور راوی روڈ کی تعمیر و بحالی پر ایک ارب تیس کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ داتا دربار پراجیکٹ کی فنڈنگ ایل ڈی اے کرے گا جبکہ دیگر منصوبوں کے اخراجات پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹیپا کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام منصوبوں کا پی سی ون تیار کرکے منصوبہ بندی و ترقیات (پی اینڈ ڈی) سے باقاعدہ منظوری حاصل کرے تاکہ جلد از جلد منصوبوں پر عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کروڑ روپے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔