پشاور ہائیکورٹ کا متعارف کردہ ’ڈبل ڈوکِٹ کورٹ رجیم‘ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں پہلی بار شام کی عدالتوں کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت عدالتیں معمول کے عدالتی اوقات کار کے بعد بھی کام کریں گی۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ایبٹ آباد میں صوبے کی پہلی ڈبل ڈوکِٹ کورٹ کا افتتاح کیا، اس موقع پرپشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بینچ کے ججز، ضلعی عدلیہ کے افسران اور بار کے نمائندے بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ معمول کے اوقات کے بعد عدالتوں کا قیام نیشنل جوڈیشل پالیسی کے تحت عمل میں لایا گیا ہے، جس میں عدالت میں 2 شفٹوں کی منظوری دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں عدالتی کارروائیاں معطل، ججز عدالتوں میں کیوں نہیں آئے؟
پاکستان میں اس نظام کو ’ڈبل ڈوکِٹ کورٹ رجیم‘ کے نام سے آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ بیک وقت زیادہ مقدمات نمٹائے جا سکیں اور زیرِ التوا مقدمات کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔
ڈبل ڈوکِٹ کورٹ سے مراد ایک ایسے عدالتی نظام سے ہے جس میں ایک ہی جج کو 2 الگ الگ مقدمات سننے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے، عام طور پر ایک ہی دن میں، تاکہ عدالتی کارروائی میں تیزی اور اثرپذیری پیدا کی جا سکے۔
عدالتی اوقات کار سے متعلق ایس او پیز کے مطابق صبح کی ڈوکِٹ کا وقت صبح 7 بج کر 30 منٹ سے دوپہر 1 بج کر 30 منٹ تک ہوگا، جبکہ شام کی ڈوکِٹ یعنی دوسری شفٹ کا وقت دوپہر 2 بج کر 30 منٹ سے شام 5 بج کر 30 منٹ تک مقرر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کردیا
چیف جسٹس نے 5 بجے کے بعد عدالتیں شروع کرنے کو عدالتی نظام میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کی عدالتوں میں خاندانی تنازعات، کرایہ داری مقدمات، خواتین اور کم عمر افراد سے متعلق کیسز، منشیات کے مقدمات سمیت ان فوجداری مقدمات کی سماعت ہوگی، جن میں 7 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات میں کمی اور انصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی، جبکہ فوری نوعیت کے کیسز میں سائلین کو اگلے دن تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
بعد ازاں چیف جسٹس نے ضلعی عدلیہ ایبٹ آباد کے عدالتی افسران سے ملاقات بھی کی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عابد سرور نے بتایا کہ 31 عدالتی افسران 19 ہزار سے زائد زیرِ سماعت مقدمات پر کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:
چیف جسٹس نے عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ، ای فائلنگ، متبادل تنازعات کے حل اور عدالتی افسران کی تربیتی پروگراموں جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ شام کے وقت عدالتیں شروع کرنے کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا اور عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، جس سے عدالتوں پر بوجھ اور مقدمات کا دباؤ کم ہو گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایبٹ آباد پشاور ہائیکورٹ جج عابد سرور چیف جسٹس ڈبل ڈوکِٹ کورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایبٹ ا باد پشاور ہائیکورٹ چیف جسٹس ڈبل ڈوک ٹ کورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ ایبٹ آباد چیف جسٹس
پڑھیں:
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کر دیا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کر دیا۔
رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے بعد سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے، لیکن ملاقات نہ ہونے پر وہ علیمہ خان اور وکلا کے ہمراہ چیف جسٹس کے سیکرٹری آفس سے واپس روانہ ہوگئے۔
اس موقع پر سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا کہ وہ ہم سے نہیں مل سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج نہ قومی اسمبلی اجلاس ہوگا نہ سینیٹ اجلاس، اور آئندہ منگل کو ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج جاری رہے گا۔
ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بھی تصدیق کی کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کسی وکیل یا ایڈووکیٹ جنرل سے ملاقات کی گئی۔